کتاب: فقہ السنہ - صفحہ 58
کرتے تھے۔ ٭ کیا آپ براء ۃ اصلیہ کے اصول سے واقف ہے؟اس کا مطلب ہے کہ انسان پر کسی شرعی حکم کا بار اس وقت ڈالا جاتا ہے جب شریعت میں اس کی وضاحت آجائے وگرنہ وہ بری الذمہ ہوتا ہے۔ جیسا ہم پر پانچ نمازیں فرض ہیں کیونکہ اس کی وضاحت آگئی ہے، چھٹی نماز فرض نہیں ہے کیونکہ اس کی وضاحت نہیں ہے۔ ٭ محدثین کرام شیعہ راوی کی اس روایت کو قبول کرلیتے ہیں جو اپنے مسلک کی تائید میں نہ ہو۔ اس کی کوئی مثال دیجئے۔ وضو کیا آپ جانتے ہیں ؟ کہ ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ کے نام میں اختلاف ہے، البتہ عبد الرحمن بن صخر کو محدثین راجح قرار دیتے ہیں ۔ انھوں نے ایک جگہ سے بلی کے بچوں کو اپنے گود میں اٹھا لیا تو یہی ان کی کنیت کی وجہ بن گئی۔ان کا حافظہ بہت اچھا تھا۔ اس لیے جب انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس کا بہت زیادہ التزام کیا تو علم کاذخیرہ اپنے اندر محفوظ کرلیا۔ ایک قول کے مطابق ان کی مرویات کی تعداد ۵۳۷۴ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ان سے روایات لینے والے صحابہ کرام کی تعداد ہی تقریبا ۸۰ ہے۔ انھوں نے لمبی عمر پائی اور یہ وراثت منتقل کرتے رہے۔ ۵۸ ہجری میں وفات پائی۔ وضو معروف ہے کہ یہ پانی والی طہارت ہے جس کا تعلق چہرے، ہاتھوں ، سر اور پاؤں سے ہے۔ اس کے بارے میں مباحث ذیل میں ہیں : ۱۔ وضو کے مشروع ہونے کی دلیل: وضو کی مشروعیت تین طرح کے دلائل سے ثابت ہے: پہلی دلیل: قرآن مجید ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ: ﴿یٰٓأَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا قُمْتُمْ اِلَی الصَّلٰوۃِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْہَکُمْ وَ