کتاب: فقہ السنہ - صفحہ 51
کسی کام کو چھوڑنے پر ثواب کا ذکر ہو۔ ساتھ ساتھ ایسی دلیل بھی ہو کہ جس سے علم ہو کہ یہ کام حرام نہیں ہے۔ وگرنہ اس سے بچنا ضروری ہوگا۔ کسی کام سے حکمی طور پر روکا جائے لیکن ساتھ میں کوئی قرینہ بھی ہو کہ جس سے علم ہو کہ اس کام سے رکنا ضروری نہیں ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کام کو ناپسند کرتے ہوئے ترک کیا ہو اور وہ کام حرام بھی نہ ہو۔ کسی کام کو اعمال ضائع کرنے والا قرار دیا گیا ہو۔ کہ جس نے مجھے کھانے کی لذت چکھائی اور اس کی قوت میرے اندر باقی رکھی اور اس کی تکلیف دہ چیز کو مجھ سے دور کیا۔‘‘ سنن الفطرۃ اللہ تعالیٰ نے انبیاء علیہم السلام کے لیے کچھ طریقے پسند کیے ہیں اور ہمیں ان طریقوں میں انبیاء کی اتباع کی تلقین کی ہے۔ اور انھیں اس قبیل سے بنایا ہے کہ جن کا وقع عام ہے تاکہ ان کے ذریعے انبیاء کے متبعین کا پتا چل جائے اور وہ دیگر لوگوں سے ممتاز ہوجائیں ۔ ان خصلتوں کو فطرت کی سنتیں کہا جاتا ہے۔ ان کی وضاحت ذیل میں ہے: شیخ البانی نے تمام المنہ میں ختنے کروانے کو ضروری قرار دیا ہے۔ پیدائش کے بعد ساتویں دن ختنے کروانا مستحب ہے جبکہ بلوغت سے قبل کروانا ضروری۔ ۱۔ختنے: اس سے مراد اس جلد کو کاٹنا ہے جو حشفہ کو ڈھانپتی ہے۔ تاکہ اس میں میل جمع نہ ہو نیز پیشاب سے بچنا ممکن ہو۔ اور ازدواجی تعلق کی لذت کم نہ ہو۔ یہ بات مردوں کے اعتبار سے ہے۔ جہاں تک خواتین کا تعلق ہے تو ان کی بنسبت شرم گاہ کا اوپر والا حصہ کاٹا جائے گا اور یہ قدیم طریقہ ہے۔ ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’ابراہیم علیہ السلام نے ان پر اسی سال آنے پر ختنے کیے اور انھوں نے ختنے قدوم مقام پر کیے