کتاب: فقہ السنہ - صفحہ 49
کہ ’’ انھیں عذاب ہورہا ہے اور عذاب کسی بڑی وجہ سے نہیں ہورہا ۔ ان میں سے ایک پیشاب سے نہیں بچا کرتا تھا جبکہ دوسرا چغل خور تھا۔‘‘ رواہ الجماعۃ۔ انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ ’’ پیشاب سے بچیے کیونکہ عام عذاب قبر اس وجہ سے ہوتا ہے۔‘‘ ۱۲۔ یہ کہ وہ اپنے دائیں ہاتھ کے ساتھ استنجاء نہ کرے تاکہ وہ اسے گندگی لگنے سے بچا سکے۔ اس کی دلیل عبد الرحمن بن زید کی حدیث ہے کہتے ہیں کہ سلمان رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ ’’ تمہارا نبی تمہیں ہر چیز سکھاتا ہے حتی کہ قضاء حاجت کے آداب بھی۔ تو سلمان رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ایسا ہی ہے۔انھوں نے ہمیں پاخانہ یا پیشاب کرتے ہوئے قبلہ رخ ہونے سے منع فرمایا ہے۔ اور دائیں ہاتھ سے استنجاء کریں یا تین پتھروں سے کم سے استنجاء کریں یا گوبر یا ہڈی کے ساتھ استنجاء کریں ۔‘‘ رواہ مسلم وابو داؤد والترمذی۔ حفصہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ’’ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنا دائیاں ہاتھ کھانے، پینے، کپڑے پہننے، کچھ لینے اور دینے کے لیے استعمال کرتے جبکہ بائیاں اس کے علادہ دیگر کاموں میں استعمال کرتے۔‘‘ رواہ احمد والنسائی وابو داؤد وابن ماجہ وابن حبان والحاکم والبیہقی۔ ۱۳۔ استنجاء کے بعد اپنے ہاتھوں کو زمین پر رگڑے یا صابن وغیرہ سے دھو لے تاکہ ہاتھ پر جوگندی بو رہ گئی ہو ختم ہوجائے۔ اس کی دلیل ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث ہے کہتے ہیں کہ ’’ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلاء میں آتے تو میں آپ کو پیتل یا چمڑے کے برتن میں پانی دیتا۔ تو آپ استنجاء کرتے پھر اپنے ہاتھ کو زمین پر مسلتے۔‘‘ رواہ ابو داؤد والنسائی والبیہقی وابن ماجہ۔ ۱۴۔ جب پیشاب کرے تو اپنی شرم گاہ اور شلوار پر پانی سے چھینٹے مارے تاکہ وہ اپنے دل سے وسواس ختم کرسکے۔ اس لیے کہ جب وہ تری پائے گا تو یہ کہے گا کہ یہ تو چھینٹوں کے نشانات ہیں ۔ اس کی دلیل حکم بن سفیان یا سفیان بن حکم رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہتے ہیں کہ ’’ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب پیشاب کرتے تو چھینٹے مارتے۔‘‘ اور ایک روایت میں ہے کہ