کتاب: فقہ السنہ - صفحہ 133
سے شرعی حکم اخذ نہیں کیا جاسکتا۔
تختی وغیرہ جو بیمارعضو پر باندھی جاتی ہے پر مسح جائز ہے۔ کیونکہ اس بارے میں کچھ احادیث وارد ہوئی ہیں ۔ یہ احادیث اگرچہ ضعیف ہیں لیکن ان کی کچھ سند ہیں جو ایک دوسرے کو تقویت دیتی ہیں ۔ اور ان روایات کو پٹی پر مسح کی مشروعیت کے استدلال کے قابل بنا دیتی ہیں ۔ ان احادیث میں سے ایک جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ’’ ایک شخص کو پتھر لگ گیا تو اس نے اس کے سر کو پھاڑ دیا۔ پھر اس شخص کو احتلام بھی ہوگیا۔ تو اس شخص نے اپنے ساتھوں سے دریافت کیا کہ کیا آپ لوگ میرے لیے تیمم کی رخصت پاتے ہو؟ تو انھوں نے جواب دیا کہ ہم آپ کے لیے رخصت نہیں پاتے جبکہ آپ پانی استعمال کرنے پر قادر بھی ہیں ۔ تو اس نے غسل کیا تو فوت ہوگیا۔ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں بتایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’ انھوں نے اسے قتل کردیا اللہ تعالیٰ انھیں ہلاک کریں ۔ جب انھیں علم نہیں تھا تو پوچھ کیوں نہ لیا؟ بلاشبہ لاعلمی کی شفا پوچھنا ہے۔ اسے کافی تھا کہ تیمم کرتا اور پٹی باندھ لیتا یا اپنے زخم پر کپڑا باندھ لیتا پھر اس پر مسح کرلیتا۔ اور اپنے تمام جسم کو دھو لیتا۔‘‘ رواہ ابو داؤد وابن ماجہ والدار قطنی۔ اور اس روایت کو ابن السکن نے بیان کیا ہے۔ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما سے صحیح طور پر مروی ہے کہ انھوں نے پٹی پر مسح کیا۔
مسح کا حکم:
وضو ہو یا غسل پٹی پر مسح کا حکم وجوب کا ہے ، مریض عضو کو دھونے یا اس پر مسح کے عوض میں ۔
مسح کب واجب ہوگا؟
جسے زخم لگا ہو یا اس کی ہڈی ٹوٹی ہو اور وہ وضو یا غسل کا ارادہ رکھتا ہو تو اس پر اعضاء کو دھونا ضروری ہے اگرچہ وہ صورت حال پانی کو گرم کرنے کی ہی متقاضی ہو۔ لیکن اگر اسے بیمار عضو کو دھونے سے نقصان کا اندیشہ ہو وہ یوں کہ اسے دھونے سے مرض لگ سکتی ہو یا