کتاب: فقہ السنہ - صفحہ 111
ہوجاتی تو وہ پانی نہ پاتے اور پانی کی طرف رستہ صرف مسجد سے جاتا تھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی ’’ اور نہ ہی جنبی البتہ وہ رستہ عبور کررہا ہو تو درست ہے۔‘‘۔ اسے ابن جریر نے بیان کیا ہے۔ امام شوکانی اس حدیث کے بعد فرماتے ہیں کہ یہ ایسی برمحل دلالت ہے کہ جس کے بعد شک کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہتی ہیں کہ ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا کہ’’ مسجد سے مجھے چٹائی پکڑائیے۔ ‘‘تو میں نے عرض کی کہ میں حالت حیض میں ہوں ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ’’ آپ کا حیض آپ کے ہاتھ میں نہیں ہے۔‘‘ اسے بخاری کے علاوہ کئی محدثین نے بیان کیا ہے۔ میمونہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں کہ ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے کسی کے پاس تشریف لاتے جبکہ وہ حالت حیض میں ہوتی تو اپنا سر اس کی گود میں رکھ دیتے اور قرآن مجید کی قرات فرماتے۔ جبکہ وہ حالت حیض میں ہوتی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چٹائی پکڑاتی اور مسجد میں رکھ دیتی جبکہ وہ حالت میں ہوتی۔‘‘ اسے احمداور نسائی نے بیان کیا ہے۔ جبکہ اس روایت کے شواہد بھی ہیں ۔ مستحب غسل یعنی وہ غسل کہ جنھیں کرنے پر انسان قابل تعریف اور قابل اجر قرار پاتا ہے۔ اور جب انھیں چھوڑے تو وہ ملامت اور سزا کا سزاوار نہیں ٹھہرتا۔ یہ چھ ہیں ، جن کا تذکرہ ہم ذیل میں کررہے ہیں : غسل جمعہ: چونکہ جمعہ عبادت اور نماز کے لیے جمع ہونے کا دن ہے، اس لیے شارع نے غسل کی تلقین اور تاکید فرمائی۔ تاکہ مسلمان اپنے اجتماعات میں صفائی ستھرائی کی بہترین حالت میں ہوں ۔ ابو سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ’’ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’جمعہ کے دن کا غسل ہر بالغ شخص پر ضروری ہے۔ نیز یہ بھی ضروری ہے کہ وہ جو خوشبو لگا سکے لگائے گا۔‘‘ اسے بخاری ومسلم نے بیان کیا ہے۔ یہاں ’’محتلم‘‘ سے مراد بالغ ہے، اور وجوب سے مراد اس کے