کتاب: فکری امن اسلام میں اس کی اہمیت ، کردار اور ثمرات - صفحہ 46
’’کہہ دے یہی میرا راستہ ہے، میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں ، پوری بصیرت پر، میں اور وہ بھی جنھوں نے میری پیروی کی ہے۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ ۖ وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ﴾ (النمل: 125) ’’اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلا اور ان سے اس طریقے کے ساتھ بحث کر جو سب سے اچھا ہے۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّن دَعَا إِلَى اللَّهِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ﴾ (حم السجدہ: 33) ’’اور بات کے اعتبار سے اس سے اچھا کون ہے جو اللہ کی طرف بلائے اور نیک عمل کرے اور کہے کہ بے شک میں فرماں برداروں میں سے ہوں ۔‘‘ صحیح حدیث میں ہے کہ: ’’جس نے کسی کو ہدایت کی طرف بلایا تو اس کے لیے بھی اتنا ہی اجر جتنا اس پر عمل کرنے والوں کے لیے ہوگا اور ان سب کے اجر میں کوئی کمی نہ کی جائے گی۔‘‘ [1] اور فرمایا: ’’نیکی اگر تمہارے ذریعے اللہ تعالیٰ ایک آدمی کو بھی ہدایت دے دے تو یہ تیرے لیے سرخ اونٹوں سے کہیں بہتر ہے۔‘‘ [2] احتساب سے مراد: نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا ہے۔ یہ دین کا اہم ترین ستون [1] مسلم، کتاب العلم، باب من دعا الی ہدی أو ضلالۃ: 62/8۔ [2] بخاری، کتاب الجہاد والسیر، باب دعا النبی صلی اللہ علیہ وسلم : 2942۔