کتاب: فکری امن اسلام میں اس کی اہمیت ، کردار اور ثمرات - صفحہ 40
یہ عبادت ہے۔ پھر اس عبادت پر مرتب ہونے والے اثرات کا ذکر کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا ﴾ (الاحزاب: 71) ’’وہ تمھارے لیے تمھارے اعمال درست کر دے گا اور تمھارے لیے تمھارے گناہ بخش دے گا اور جو اللہ اور اس کے رسول کی فرماں برداری کرے تو یقینا اس نے کامیابی حاصل کرلی، بہت بڑی کامیابی۔‘‘ یقینا اعمال کی اصلاح، اور آخرت میں گناہوں کی بخشش ان اثرات میں سے ہے جو عبادت پر مرتب ہوتے ہیں ۔ یہ آیت کریمہ ان اثرات کے ذکر پر مشتمل ہے جو عبادت کی بنیاد پر دنیا و آخرت میں مرتب ہوتے ہیں ۔ دنیا میں اعمال کی اصلاح، اعمال کی توفیق اور صحیح منہج اور راستہ کی شکل میں اور یہ کہ انسان اللہ تعالیٰ کے راستہ پر پوری بصیرت اور دلیل کے ساتھ چلتا ہے، اور آخرت میں گناہوں کی بخشش اور برائیوں سے معافی کی شکل میں ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَتَّقُوا اللَّهَ يَجْعَل لَّكُمْ فُرْقَانًا وَيُكَفِّرْ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ۗ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ ﴾ (الانفال: 29) ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اگر تم اللہ سے ڈروگے تو وہ تمھارے لیے (حق و باطل میں ) فرق کرنے کی بڑی قوت بنادے گا اور تم سے تمھاری برائیاں دور کر دے گا اور تمھیں بخش دے گا اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے۔‘‘ یہ آیت کریمہ دلیل ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت والے اعمال کر تا ہے اس کے لیے اللہ تعالیٰ فرقان (فیصلہ) عطا کرے گا جو اس کے لیے حق و باطل میں فرق واضح کر دے گا۔ فکری امن کی حقیقت بھی یہی ہے۔ ایسا