کتاب: فکری امن اسلام میں اس کی اہمیت ، کردار اور ثمرات - صفحہ 14
شرع کے معانی: ’’انتہائی ظاہر‘‘ کے بھی ہیں ۔ یہ ابن اعرابی کا قول ہے۔ [1] اسی طرح کی بات [2] ازہری نے لکھی ہے۔ انہوں نے کہا: لفظ شریعت کے معانی واضح اور ظاہر کے ہیں ۔ [3] لغوی معانی کے متعلق حاصل کلام یہ ہے کہ لفظ شریعت پانی کے سرچشمہ پر بولا جاتا ہے، اور شریعت ہدایت کا سرچشمہ ہے۔ پھر یہ لفظ سیدھے راستہ پر بولا گیا یعنی منہج، اور صراطِ مستقیم، یہ تمام الفاظ ابتداء کے معانی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں : الشرعۃ یہ الشریعۃ ہے۔ اس سے مراد جس سے کسی چیز کے لیے ابتداء کی جائے اس سے کہا جاتا ہے۔ شرع فی کذا، یعنی اس نے اس کی ابتداء کی ہے۔ [4] جس کسی نے امر کی ابتداء کی ، اس کی وضاحت کی اور اسے ایک منہج اور راستہ کے طور پر اختیار کیا تو اس نے شریعت اختیار کی۔ [5] (ب) اصطلاحی معانی: لفظ الشریعۃ کی اصطلاحی تعریف میں علماء کے کئی اقوال موجود ہیں ۔ جبکہ سب کا مفہوم اور ہدف ایک ہی ہے۔ [1] احمد بن محمد بن زیاد بن اعرابی، ابو سعید، جو کہ بہت بڑے امام، عالم، محدث ثقہ زاہد، مکہ میں تشریف لائے اور وہاں کے شیخ بنے۔ ان کی بہترین کتابیں ہیں ۔ (340)ھ میں فوت ہوئے۔ سیر اعلام النبلاء: 407/15۔ طبقات للسیوطی: 369۔ [2] ابو منصور محمد بن احمد بن طلحہ بن نوح بن ازہر، ازری، ھروی، شافعی جو کہ 282ھ میں ھراۃ میں پیدا ہوئے۔ وہاں کے علماء سے علم حاصل کیا۔ 370ھ میں فوت ہوئے۔ معجم الأدباء: 164/17۔ [3] لسان العرب، دیکھئے: (شرع)۔ [4] تفسیر ابن کثیر: 66/2۔ [5] المدخل للدراسۃ الشریعۃ الإسلامیۃ، ص: 10۔