کتاب: فکر و عقیدہ کی گمراہیاں اور صراط مستقیم کے تقاضے - صفحہ 275
یہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿كَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً فَبَعَثَ اللّٰهُ النَّبِيِّينَ مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ وَأَنزَلَ مَعَهُمُ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِيَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ فِيمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ ۚ وَمَا اخْتَلَفَ فِيهِ إِلَّا الَّذِينَ أُوتُوهُ مِن بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَاتُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ ۖ فَهَدَى اللّٰهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِهِ ۗ وَاللّٰهُ يَهْدِي مَن يَشَاءُ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ ﴾
’’دراصل لوگ ایک ہی گروہ تھے، اللہ تعالیٰ نے نبیوں کو خوشخبریاں دینے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجا اور ان کے ساتھ سچی کتابیں نازل فرمائیں تاکہ لوگوں کے اختلافی امر کا فیصلہ ہوجائے اورانھی لوگوں نے، جن کو حق دیا گیا تھا، اپنے پاس دلائل آچکنے کے بعد آپس کے بغض وعناد کی وجہ سے اس میں اختلاف کیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کی اس اختلاف میں بھی حق کی طرف اپنی مشیّت سے رہبری کی اور اللہ، جس کو چاہے اس کی سیدھی راہ کی طرف رہبری کرتا ہے۔‘‘ [1]
والحمد للّٰه رب العالمين والصلاة والسلام علي سيد المرسلين كل وقت وحين ( آمين)
[1] البقرۃ 213:2