کتاب: فکر و عقیدہ کی گمراہیاں اور صراط مستقیم کے تقاضے - صفحہ 274
تمام مسلمانوں کو چاہیے کہ علم وایمان کی تحقیق میں پوری کوشش کریں اور اللہ کو اپنا ہادی وناصر اور حاکم وولی بنائیں۔ جیسے کہ اللہ نے فرمایا: ﴿فَنِعْمَ الْمَوْلَىٰ وَنِعْمَ النَّصِيرُ ﴾ ’’اللہ بہت اچھا ولی اور مددگار ہے۔‘‘[1] نیز فرمایا: ﴿وَكَفَىٰ بِرَبِّكَ هَادِيًا وَنَصِيرًا ﴾ ’’اور تیرا رب ہادی وناصر ہونے کے لحاظ سے کافی ہے۔‘‘[2] اور اگر چاہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ میں دعا مانگا کریں جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے امام مسلم رحمہ اللہ نے روایت کیے ہیں کہ نبی ٔکریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو نماز کے لیے کھڑے ہوتے تھے تو یہ دعا کرتے تھے: (( اللَّهُمَّ رَبَّ جَبْرَائِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَإِسْرَافِيلَ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ اهْدِنِي لِمَا اخْتُلِفَ فِيهِ مِنْ الْحَقِّ بِإِذْنِكَ إِنَّكَ تَهْدِي مَنْ تَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ)) ’’اے اللہ، اے جبریل ومیکائیل اور اسرافیل ( علیہم السلام ) کے پروردگار، اے آسمان و زمین کے خالق، اے غائب وحاضر کا علم رکھنے والے! تو ہی اپنے بندوں کے اختلاف کا فیصلہ کرے گا، لہٰذا حق پہچاننے میں میری رہنمائی کر۔ وہ حق کہ جس میں اختلاف پڑ گیا ہے۔ تو ہی صراط مستقیم کی طرف، جسے چاہتا ہے، ہدایت کرتا ہے۔‘‘[3]
[1] الحج 78:22 [2] الفرقان 31:25 [3] صحیح مسلم، صلاۃ المسافرین، باب صلاۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم ودعائہ باللیل، حدیث:770