کتاب: فکر و عقیدہ کی گمراہیاں اور صراط مستقیم کے تقاضے - صفحہ 272
’’پاک ہے آپ کا رب جو بہت عظیم عزت والا ہے، ہر اس چیز سے جو مشرک بیان کرتے ہیں۔ پیغمبروں پر سلام ہے اور ہر طرح کی تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جو سارے جہان کا رب ہے۔‘‘[1] لیکن انبیاء علیہم السلام اور قرآن مجید کا طریقہ بالکل صاف ہے۔ قرآن مجید، مقام اثبات میں کہتا ہے کہ اللہ حیّ ہے، قیّوم ہے، علیم وحکیم ، غفور ورحیم، سمیع وبصیر اور علِیّ و عظیم ہے، تمام کائنات کا خالق وہی ہے، عرش عظیم کا مالک وہی ہے، حضرت موسیٰ علیہ السلام سے اس نے کلام کیا، پہاڑ پر اپنی تجلی ڈالی، مومنوں سے راضی ہوتا ہے، کافروں پر غصہ کرتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ مقام نفی میں کہتا ہے کہ اس کی مثل کوئی نہیں۔ اس کے ہم پلہ کوئی نہیں، نہ اس کی ذات مقدس میں اور نہ اس کے اسماء وصفات میں۔ ﴿سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يَقُولُونَ عُلُوًّا كَبِيرًا ﴿٤٣﴾ تُسَبِّحُ لَهُ السَّمَاوَاتُ السَّبْعُ وَالْأَرْضُ وَمَن فِيهِنَّ ۚ وَإِن مِّن شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَـٰكِن لَّا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ ۗ إِنَّهُ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًا﴾ ’’پاک ہے وہ اور بہت برتر ہے ان کی باتوں سے۔ تسبیح کرتے ہیں اس کی ساتوں آسمان اورزمین اور جو کوئی ان میں ہے، کوئی چیز نہیں جو اس کی تسبیح نہ کرتی ہو لیکن تم ان سب کی تسبیح نہیں سمجھتے، بے شک وہ حلیم وغفور ہے۔‘‘[2] پس مومن اللہ پر اور اس کے اسمائے حسنیٰ پر ایمان رکھتا ہے۔ انھی کے ذریعے سے دعا کرتا ہے اور اس کے اسماء و صفات میں الحاد نہیں کرتا۔ جیسا کہ فرمایا: ﴿ وَلِلّٰهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ فَادْعُوهُ بِهَا ۖ وَذَرُوا الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي أَسْمَائِهِ ۚ
[1] الصافات 182-180:37 [2] الإسراء 44-43:17