کتاب: فکر و عقیدہ کی گمراہیاں اور صراط مستقیم کے تقاضے - صفحہ 270
رو سے وہ تمام مخلوقات کی مشابہت ومماثلت سے الگ ہوگیا ہے تو وہی شخص ہدایت پر ہے اور وہ اس توحید کو پاگیا ہے جسے لے کر انبیاء علیہم السلام آئے اور کتابیں نازل ہوئی ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورئہ اخلاص اور سورئہ کافرون میں واضح فرمادیا ہے۔
قرآن کی تقسیم
مطالب کے لحاظ سے قرآن تین حصوں پر منقسم ہے۔ ایک حصہ توحید پر مشتمل ہے، ایک تہائی حصے میں گزشتہ واقعات اور قصص ہیں اور ایک تہائی حصے میں امر ونہی ہے۔ سورئہ اخلاص ایک تہائی قرآن، یعنی توحید کا خلاصہ ہے، جیسا کہ نبی ٔکریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ قُلْ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ‘‘ایک تہائی قرآن کے برابر ہے۔‘‘[1]کیونکہ اس سورت میں ذات الٰہی اور اس کے اسماء وصفات کا اثبات ہے، یعنی توحید قولی کی جامع ہے۔ فرمایا:
﴿ قُلْ هُوَ اللّٰهُ أَحَدٌ ﴿١﴾ اللّٰهُ الصَّمَدُ ﴿٢﴾ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ ﴿٣﴾ وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ ﴾
’’اے پیغمبر! کہہ دو کہ اللہ ایک ہے، اللہ بے نیاز ہے، نہ اس کی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور نہ اس کے کوئی برابر ہے۔‘‘ [2]
سورئہ کافرون میں توحید قصدی عملی ہے، اس میں مخلص مومنوں کو، جو اللہ واحد ہی کی عبادت کرتے ہیں، مشرکوں سے جدا کر دیا گیا ہے جو اللہ کے ساتھ غیراللہ کی بھی عبادت
[1] صحیح مسلم، فضائل القرآن و مایتعلق بہ، باب فضل قراء ۃ ﴿قل ہو اللّٰہ أحد﴾ حدیث: 811۔ یہ حدیث دوسرے الفاظ سے بھی بخاری ومسلم میں ہے دیکھیے: صحیح البخاری، فضائل القرآن، باب فضل ﴿قل ہواللّٰہ أحد﴾ حدیث: 5013و صحیح مسلم، صلاۃ المسافرین، باب فضل قراء ۃ ﴿قل ہواللّٰہ أحد﴾ حدیث:812
[2] الإخلاص 1-4:112