کتاب: فکر و عقیدہ کی گمراہیاں اور صراط مستقیم کے تقاضے - صفحہ 268
جیسا کہ قرآن میں ہے: ﴿مَا أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي أَنفُسِكُمْ إِلَّا فِي كِتَابٍ مِّن قَبْلِ أَن نَّبْرَأَهَا ۚ إِنَّ ذَٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيرٌ ﴾ ’’نہ کوئی مصیبت زمین پر آتی ہے نہ خود تم پر لیکن وہ پہلے ہی سے کتاب میں لکھی ہوتی ہے۔ یہ اللہ کے لیے آسان کام ہے۔‘‘ [1] اور فرمایا: ﴿ مَا أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللّٰهِ ۗ وَمَن يُؤْمِن بِاللّٰهِ يَهْدِ قَلْبَهُ ﴾ ’’کوئی مصیبت بھی بغیر حکم الٰہی کے نہیں آ سکتی جو کوئی اللہ پر ایمان لاتا ہے اللہ اس کے دل کو ہدایت بخش دیتا ہے۔‘‘ [2] بعض علمائے سلف رحمۃ اللہ علیہم نے اس آیت کی تفسیر یہ کی ہے کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جسے جب کوئی مصیبت لاحق ہوتی ہے تو اسے اللہ کی طرف سے سمجھ کر راضی ہوجاتا ہے، اور اپنے آپ کو اس کی مشیت کے حوالے کردیتا ہے۔ تقدیر سے حضرت آدم علیہ السلام کے حجت پکڑنے کی بھی یہی توجیہ ہے، ورنہ ظاہر ہے آدم علیہ السلام بلکہ ان سے کم تر مومنین بھی یہ نہیں کہہ سکتے کہ معاصی اور گناہ تقدیر کا نتیجہ ہیں۔ اگر یہ استدلال صحیح ہو تو پھر ابلیس اور اس کے تمام پیرو بھی یہی دلیل پکڑ سکتے ہیں۔ قوم نوح، عاد وثمود غرض تمام سرکش اور مجرم یہی عذر پیش کرسکتے ہیں اور اگر یہ عذر معقول ومقبول ہوجائے تو پھر کسی کو کسی خطا پر سزا نہیں دی جاسکتی۔ غور کیجیے تقدیر سے اس طرح حجت پکڑنے والوں پر اگر ظلم یا زیادتی کی جائے تو اس وقت اسے تقدیر کا نتیجہ قرار نہیں دیتے بلکہ جب یہ معاملہ ہوگا تو فوراً واویلا شروع کردیں گے اور انصاف کے طالب ہوں گے۔ اگر تقدیر سے اس طرح کا استدلال تسلیم کرلیا جائے تو آدمیوں
[1] الحدید 22:57 [2] التغابن 11:64