کتاب: فکر و عقیدہ کی گمراہیاں اور صراط مستقیم کے تقاضے - صفحہ 267
فیصلے کرتے ہو؟ کیا تمھارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں پڑھ لیتے ہو کہ سب کچھ تمھاری پسند کے مطابق ہوگا؟ کیا تم نے ہم سے قیامت کے دن تک قسمیں لے لی ہیں کہ تمھیں وہی ملے گا جو تم پسند کروگے؟ ان سے پوچھیے کہ اس بات کا ضامن کون ہے؟ یا ان کے لیے شرکاء ہیں؟ اگر یہ سچے ہیں تو اپنے شریکوں کو لے آئیں۔ ‘‘[1] جو کوئی اللہ کے دوستوں اور اللہ کے دشمنوں میں اس کے حکم کردہ (ایمان وعمل صالح) اور اس کے ناپسند کردہ (کفر و فسق اور عصیان) میں فرق نہیں کرتا تو وہ ضرور مشرکین کے دین میں گر پڑے گا، اگر چہ اللہ کی قدرت ومشیّت اور خلاّقیت ہر چیز کو شامل ہے۔ تقدیر پر ایمان تقدیر پر ایمان رکھنا چاہیے مگر اس سے احتجاج کرنا روا نہیں۔ بندے پر فرض ہے کہ مصائب کے وقت تقدیر کی طرف رجوع کرے، صبر کرے اور عیوب وذنوب پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت چاہے۔ جیسا کہ فرمایا: ﴿ فَاصْبِرْ إِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبِكَ ﴾ ’’صبر کر بے شک اللہ کا وعدہ سچا ہے اور اپنی خطا پر مغفرت طلب کر۔‘‘ [2] اسی بنا پرحضرت آدم علیہ السلام نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو قائل کرلیا تھا جب کہ انھوں نے حضرت آدم علیہ السلام کو ملامت کی کہ ممنوعہ شجر کا پھل کھا کر آپ نے تمام انسانوں کو مصیبت میں کیوں مبتلا کیا؟ تو حضرت آدم علیہ السلام نے جواب دیا کہ یہ مصیبت میری پیدائش سے پہلے لکھی جاچکی تھی۔[3]
[1] القلم 41-35:68 [2] المؤمن 55:40 [3] صحیح البخاری، أحادیث الأنبیاء، باب وفاۃ موسیٰ، حدیث: 3409وصحیح مسلم، القدر، باب حجاج آدم وموسیٰعلیہما السلام ، حدیث: 2652