کتاب: فکر و عقیدہ کی گمراہیاں اور صراط مستقیم کے تقاضے - صفحہ 266
کی الوہیت کی شہادت بھی دے لیکن یہ شرف اس کے مومن بندوں ہی کو حاصل ہے جنھوں نے اس کی عبادت کی ہے، اس کے حکم کی اطاعت کی ہے اور اس کے رسولوں کی پیروی کی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿ أَمْ نَجْعَلُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ كَالْمُفْسِدِينَ فِي الْأَرْضِ أَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِينَ كَالْفُجَّارِ﴾ ’’کیا ہم ان لوگوں کو، جو ایمان لائے اور عمل صالح کرتے رہے، ان کے برابر کریں گے جو زمین میں فساد برپا کرتے ہیں؟ کیا پرہیزگاروں کو بدکاروں کی طرح کردیں گے؟‘‘[1] اور فرمایا: ﴿أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ اجْتَرَحُوا السَّيِّئَاتِ أَن نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَوَاءً مَّحْيَاهُمْ وَمَمَاتُهُمْ ۚ سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ ﴾ ’’کیا بدکاروں نے خیال کر رکھا ہے کہ ہم ان کا اور نیکوکار مومنوں کا مرنا جینا یکساں کردیں گے؟ ان کا خیال کس قدر برا ہے۔‘‘[2] اور فرمایا: ﴿أَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِينَ كَالْمُجْرِمِينَ ﴿٣٥﴾ مَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ ﴿٣٦﴾ أَمْ لَكُمْ كِتَابٌ فِيهِ تَدْرُسُونَ ﴿٣٧﴾ إِنَّ لَكُمْ فِيهِ لَمَا تَخَيَّرُونَ ﴿٣٨﴾ أَمْ لَكُمْ أَيْمَانٌ عَلَيْنَا بَالِغَةٌ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ ۙ إِنَّ لَكُمْ لَمَا تَحْكُمُونَ ﴿٣٩﴾ سَلْهُمْ أَيُّهُم بِذَٰلِكَ زَعِيمٌ ﴿٤٠﴾ أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ فَلْيَأْتُوا بِشُرَكَائِهِمْ إِن كَانُوا صَادِقِينَ ﴾ ’’کیا ہم فرماں برداروں کو گناہ گاروں کے برابر کردیں گے، تمھیں کیا ہوا ہے، تم کیسے
[1] ص 28:38 [2] الجاثیۃ 21:45