کتاب: فکر و عقیدہ کی گمراہیاں اور صراط مستقیم کے تقاضے - صفحہ 264
لوٹ آتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ حج سے بہتر ہے۔ بعض اَن پڑھ لوگوں کا عقیدہ ہے کہ زیارت قبور واجب ہے۔ وہ قبر میں مدفون ہڈیوں سے اسی طرح التجائیں کرتے ہیں جس طرح ایسے زندہ سے کی جاتی ہے، جسے کبھی موت نہیں، یعنی اللہ تعالی سے۔ کبھی یہ لوگ قبروں پر اپنی اولاد کو چڑھادیتے ہیں۔ ان کے نام پر جانور چھوڑتے ہیں جیسا کہ مشرکین عرب اپنے بتوں کے نام پر کیا کرتے تھے۔
قبروں کے بہت سے مجاور، جاہلوں کو یہ کہہ کر گمراہ کرتے ہیں کہ ہم تمھاری التجا صاحب قبر کے سامنے پیش کردیں گے، وہ نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کرے گا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سامنے۔
ایسے لوگ بھی ہیں جو قبروں پر پردہ لٹکاتے اور چادر چڑھاتے ہیں، حالانکہ یہ وہ باتیں ہیں جن کی حرمت پر تمام مسلمان متفق ہیں نتیجہ یہ نکلا کہ مسجدیں ویران ہیں لیکن قبریں آباد ہیں۔[1] بہت سے لوگوں کا اعتقاد ہے کہ ان قبروں کے پاس جن کی وہ تعظیم کرتے ہیں، نماز پڑھنا اللہ کے گھر یعنی مسجد میں نماز پڑھنے سے افضل ہے۔ چنانچہ ان مشرکانہ مقامات میں نماز و دعا کے لیے ہجوم کرتے ہیں، حالانکہ نبی ٔاکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کو مسجدیں قرار دینے سے منع کیا ہے۔ وہ مسجدوں میں نماز ترک کردیتے ہیں، حالانکہ وہ اللہ کے گھر ہیں جن کو بلند کرنے اور وہاں اللہ کا نام ذکر کرنے کا خود اس نے حکم دیا ہے۔
ان کے بعض اکابر کا قول ہے کہ نماز میں کعبہ کو قبلہ بنانا عوام کے لیے ہے، لیکن فلاں شیخ کی قبر کو قبلہ بنانا اور کعبہ کو پس پشت رکھنا خواص کے لیے ہے، حالانکہ یہ اور اس طرح کی
[1] وہ قوم کیوں نہ تباہ و برباد ہوگی جو زندوں کی قدر نہیں کرتی مگر مردوں کو خدا بنائے ہوئے ہے۔ ہندوؤں پر اعتراض ہے کہ بت پرست ہیں لیکن بت پرستی، قبر پرستی سے اگر بہتر نہیں تو بدتر بھی نہیں ہے۔ وہ قوم کیونکر زندہ رہ سکتی ہے جس نے مردوں کو معبود بنارکھا ہو۔