کتاب: فکر و عقیدہ کی گمراہیاں اور صراط مستقیم کے تقاضے - صفحہ 262
ہوجائے گی۔ چنانچہ عرب کی ہر مشرک قوم کا الگ الگ دیوتا تھا۔ ایک قوم دوسری قوم کے دیوتا سے بیزار تھی۔ بلکہ بعض کی شریعتیں بھی جدا جدا تھیں۔ جیسا کہ مدینہ والے منات کی تکبیر بلند کرتے اور صفا ومروہ کے مابین طواف ناپسند کرتے تھے۔ یہاں تک کہ قرآن کریم نے اس کا حکم دیا۔ اسی طرح جن لوگوں میں کچھ شرک پیدا ہوجاتا ہے، ان میں اتفاق باقی نہیں رہتا۔[1] چنانچہ قبور اور انبیاء وصالحین کے آثار کو مسجدیں قرار دینے والوں کا بھی یہی حال ہے، ان کا ہر گروہ دعا واستغاثہ اور توجہ کے لیے ایسی جگہ جاتا ہے جو دوسرے گروہ کے ہاں واجب التعظیم نہیں۔ موحدوں کے اعمال برخلاف ان کے موحد صرف اللہ واحد کی عبادت کرتے ہیں، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بناتے اور اگر ان میں کبھی اجتہادی مسائل میں کوئی اختلاف پیدا ہوجاتا ہے تو اس سے تفریق ومخالفت پیدا نہیں ہوتی۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ایسے مسائل میں صحیح رائے قائم کرنے والے کے لیے دو ثواب ہیں اور غلطی کرنے والے کے لیے بھی اس کے اجتہاد کی وجہ سے ایک ثواب ہے[2] اور اس کی غلطی معاف ہے۔ اللہ ہی ان کا معبود ہے، وہ اسی کی پرستش کرتے
[1] مسلمانوں کی موجودہ نااتفاقی کا رونا سب روتے ہیں مگر کوئی اس کے اصلی سبب پر غور نہیں کرتا۔ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے یہاں وہ سبب بیان کردیا ہے۔ مسلمانوں کا اتفاق اللہ ہی کے نام پر ہوسکتا ہے، اللہ تعالیٰ کے نام سے مقصود یہ ہے کہ سب لوگ شرک وبدعت سے تائب ہوکر اللہ تعالیٰ کی رسی کو مضبوط پکڑ لیں اور وہ رسی، کتاب وسنت ہے مگر ہمارے موجودہ پیشواؤں کی سنہری، رو پہلی مصلحتیں کیا ایسا ہونے دیں گی؟ [2] صحیح البخاری، الاعتصام، باب أجر الحاکم إذا اجتہد فأصاب أو أخطأ، حدیث: 7353 وصحیح مسلم، الأقضیۃ، باب بیان أجرالحاکم إذا اجتہد … ،حدیث: 1716