کتاب: فکر و عقیدہ کی گمراہیاں اور صراط مستقیم کے تقاضے - صفحہ 260
شریعت سے نکل گیا وہ بھی مسلم نہ رہا اور تبدیلی کے بعد جو کوئی شریعت محمدی میں داخل نہ ہوا، وہ بھی مسلم نہ رہا۔ اللہ تعالیٰ نے کسی نبی کو ہر گز یہ حکم نہیں دیا کہ غیراللہ کی عبادت کی جائے۔ چنانچہ فرمایا: ﴿شَرَعَ لَكُم مِّنَ الدِّينِ مَا وَصَّىٰ بِهِ نُوحًا وَالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَىٰ وَعِيسَىٰ ۖ أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ ۚ كَبُرَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ ﴾ ’’اس نے تمھارے لیے وہی شریعت مقرر کردی ہے جس کے قائم کرنے کا نوح ( علیہ السلام ) کو حکم دیا تھا اور جو بذریعہ وحی ہم نے تیری طرف بھیج دی ہے اور جس کا تاکیدی حکم ہم نے ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ ( علیہم السلام ) کو دیا تھا کہ اس دین کو قائم رکھنا اور اس میں پھوٹ نہ ڈالنا۔ جس چیز کی طرف آپ ان مشرکوں کو بلا رہے ہیں وہ تو ان پر گراں گزرتی ہے۔‘‘[1] پس تمام رسولوں کو یہی حکم دیا ہے کہ دین قائم کریں اور اس میں پھوٹ نہ ڈالیں۔ فرمایا: ﴿يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا ۖ إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ ﴿٥١﴾ وَإِنَّ هَـٰذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّقُونِ ﴾ ’’رسولوں کی جماعت! پاک چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو تم جو کچھ کررہے ہو، اس سے میں بخوبی واقف ہوں۔ یقینا تمھارا یہ دین ایک ہی دین ہے اور میں ہی تم سب کا رب ہوں، پس تم مجھ سے ڈرتے رہو۔‘‘ [2] اور فرمایا: ﴿فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا ۚ فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا
[1] الشوری 13:42 [2] المؤمنون 52-51:23