کتاب: فکر فراہی اور اس کے گمراہ کن اثرات - صفحہ 288
’’بے ہودہ ‘‘ یا ’’منافق کی گھڑی ہوئی ‘‘ ہیں۔ [1]تو پھر ان کے ایک ایک جز پر بحث کی ضرورت ہی کیا ہے؟
دوسری بات یہ کہ جس ایک روایت سے موصوف نے استدلال کیا ہے، اس میں بھی ایک تضاد موجود ہے، لیکن اس تضاد کو نہایت آسانی سے ایک توجیہ کر کے خود ہی دور یا حل کر دیا ہے۔ فرماتے ہیں:
’’رجم کے ساتھ اس روایت میں سو کوڑے کی سزا بھی بیان ہوئی ہے، لیکن ہمارے نزدیک یہ محض قانون کی وضاحت کے لیے ہے۔ روایات سے ثابت ہے کہ نبیِ مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کے ساتھ زنا کے جرم میں کسی شخص کو تازیانے کی سزا نہیں دی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ موت کی سزا کے ساتھ کسی اور سزا کا جمع کرنا حکمتِ قانون کے خلاف ہے۔ قانون کی یہ حکمت اسلامی شریعت ہی نہیں، دنیا کے ہر مہذب قانون میں ملحوظ رکھی گئی ہے۔ حبس، تازیانہ، جرمانہ، ان سب سزاؤں میں دو باتیں پیشِ نظر ہوتی ہیں۔ ایک معاشرے کی عبرت، دوسرے آئندہ کے لیے مجرم کی تادیب و تنبیہ۔ موت کی صورت میں، ظاہر ہے کہ تادیب و تنبیہ کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اس وجہ سے جب مختلف جرائم میں کسی شخص کو سزا دینا مقصود ہو اور ان میں سے کسی جرم کی سزا موت بھی ہو تو باقی سب سزائیں کالعدم ہوجاتی ہیں۔ ‘‘[2]
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی یہ روایت ہے، جو اہلِ اسلام کی سب سے بڑی اور سب سے زیادہ واضح دلیل ہے، جس میں نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ شادی شدہ زانیوں کے لیے رجم اور غیر شادی شدہ کے لیے کوڑے ہیں، لیکن اس روایت میں سو کوڑوں کے ساتھ جلا وطنی کی اور رجم کے ساتھ کوڑوں کی سزا کا بھی ذکر ہے۔ اس ظاہری تضاد کو بعض دوسری روایات اور خود نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل نے دور کر دیا کہ رجم کے ساتھ آپ نے عملاً کوڑوں کی سزا نہیں دی۔
اسی طرح کنوارے کے لیے کوڑوں کے ساتھ جلاوطنی کی سزا کو بھی دوسری روایات کی روشنی میں تعزیر کے زمرے میں رکھ کر حالات و ضروریات کے مطابق حاکمِ وقت کے لیے گنجائش رکھی ہے کہ وہ چاہے تو جلا وطنی کی
[1] برہان، ص: ۶۱، ۶۲
[2] برہان، ص: ۱۲۷