کتاب: فہم دین کے تین بنیادی اصول - صفحہ 33
[1]دوسرا مسئلہ: [2] …بے شک اللہ تعالیٰ اس بات پر راضی نہیں ہوتا کہ اس کی عبادت میں اس کے ساتھ کسی اور کو بھی عبادت میں اس کا شریک ٹھہرایا جائے، نہ ہی کسی ملک مقرب کو اور نہ ہی کسی نبی مرسل کو ۔ اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:﴿وَاَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰہِ فَـلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰہِ اَحَدًا﴾ (الجن: 18) ’’اور بے شک مسجدیں صرف اللہ تعالیٰ ہی کے لیے خاص ہیں ، پس اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو۔‘‘
[1] [بقیہ حاشیہ ] اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰــلًا مُّبِیْنًا﴾ (الاحزاب: 36)’’جو کوئی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی بھی نافرمانی کرے گا وہ صریح گمراہی کا شکار ہوا۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿وَمَنْ یَّعْصِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ فَاِِنَّ لَہٗ نَارَ جَہَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْہَا اَبَدًا ﴾ (الجن:23) ’’جو بھی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی نہ مانے گا اس کے لیے جہنم کی آگ ہے جس میں ایسے لوگ ہمیشہ رہیں گے۔‘‘اور حدیث سے اس کی دلیل یہ فرمان نبوت ہے:’’ اور جس نے میری نافرمانی کی وہ جہنم میں چلا گیا۔‘‘ (البخاری: 7280) [2] دوسرامسئلہ:… جس کا جاننا ہمارے لیے ضروری ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو یہ بات پسند نہیں کہ اس کی عبادت میں کسی دوسرے کو اس کا شریک ٹھہرایا جائے۔ بلکہ وہ اکیلا ہی عبادت کا مستحق ہے۔ اس کی دلیل مصنف کی پیش کردہ آیت ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿وَاَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلَّہِ فَـلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰہِ اَحَدًا﴾ (الجن:18) ’’اور بے شک مسجدیں صرف اللہ ہی کے لیے خاص ہیں ، پس اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو۔‘‘ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرمادیا ہے کہ انسان اس کے ساتھ کسی اور کو بھی پکارے۔یقینا اللہ تعالیٰ ان ہی چیز سے منع کرتے ہیں جسے وہ نا پسند کرتے ہوں ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿اِِنْ تَکْفُرُوْا فَاِِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ عَنْکُمْ وَلَا یَرْضَی لِعِبَادِہٖ الْکُفْرَ وَاِِنْ تَشْکُرُوْا یَرْضَہُ لَکُم﴾ (الزمر:7) ’’اگر تم ناشکری کرو تو (یاد رکھو)کہ اللہ تعالیٰ تم (سب سے) بے نیاز ہے اور وہ اپنے بندوں کی ناشکری سے خوش نہیں اور اگر تم شکر کرو تو وہ اسے تمہارے لیے پسند کرے گا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿فَاِنْ تَرْضَوْا عَنْہُمْ فَاِنَّ اللّٰہَ لَا یَرْضٰی عَنِ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ﴾ (توبہ: 96)’’ سو اگر تم ان سے راضی بھی ہو جاؤ تو اللہ تعالیٰ تو ایسے فاسق لوگوں سے راضی نہیں ہوتا ۔‘‘ کفر وشرک ایسے اعمال ہیں جنہیں اللہ پسند نہیں کرتا۔بلکہ اس نے کفر و شرک سے جنگ کرنے اور ان کا خاتمہ کرنے کے لیے ہی رسولوں کو مبعوث فرمایااور ان پر کتابیں نازل فرمائیں ۔ [حاشیہ جاری ہے ]