کتاب: فہم دین کے تین بنیادی اصول - صفحہ 24
[1]امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ[2] فرماتے ہیں :
((لو ما أنزل اللّٰہ حجۃ علی خلقِہِ ِإلا ہذِہِ السورۃ لکفتہم))
’’اگر اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق پر اس سورت کے علاوہ کچھ بھی نازل نہ کرتے تو بھی یہ
[1] [بقیہ حاشیہ] 3۔تیسرا مرتبہ:… اپنے نفس کو ہدایت اوردین حق کی دعوت وتبلیغ اورلاعلموں کو اس کی تعلیم دینے میں لگائے رہے۔
4۔ چوتھا مرتبہ: یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت و تبلیغ کی اس راہ میں مخلوق کی طرف سے جتنی بھی تکلیفیں پہنچیں اورمشقتیں برداشت کرنی پڑیں انسان ان سب کو صرف اللہ تعالیٰ کیلئے برداشت کرلے۔ جب کسی انسان میں یہ چارمراتب پورے ہوجائیں تو اس کا شمار اہل اللہ[اولیاء]میں ہونے لگتاہے۔
اللہ عزوجل نے اس سورت میں قسم اٹھائی ہے کہ تمام انسان گھاٹے اورنقصان میں ہیں خواہ ان کے پاس مال و دولت بیٹے اور اولاد کتنے زیادہ ہی کیوں نہ ہوں اوروہ کتنا ہی صاحب شرف و منزلت ہی کیوں نہ ہو۔مگروہ لوگ اس خسارے سے بچ جائیں گے جن میں یہ چارخصلتیں پائی جائیں :
1۔پہلا مرتبہ :ایمان اعتقاد صحیح اور علم نافع: ہر اس چیز کو شامل ہے جو اللہ تعالیٰ کے قریب کردے۔
2۔ دوسرا مرتبہ :اللہ تعالیٰ کا قرب دلانے والا ہر وہ قول اور فعل ہے جس کا کرنے والا اللہ تعالیٰ کے لیے مخلص اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا صحیح متبع ہوگا۔
3۔ تیسرا مرتبہ : حق بات کی وصیت کرناایک دوسرے کو نیک کام کرنے کی ترغیب دینااور نیکی پر ابھارنا۔
4۔ چوتھا مرتبہ: صبر کی وصیت کرنا، یعنی باہم ایک دوسرے کو اللہ تعالیٰ کے احکام بجالانے پر اور ممنوعہ کاموں سے رک جانے پر اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے لکھی ہوئی تقدیر پر صبر و تحمل کرنے کی وصیت کرنا۔
حق بات اور صبرکی وصیت و تلقین امر بالمعروف و نہی عن المنکر کو متضمن ہیں جو کہ اس امت کی بنیاد ہے اور امت کا شرف و مرتبہ اورفضیلت اورنصرت کا حصول اسی پر مبنی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ ﴾ [آل عمران: 110] ’’تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے پیدا کی گئی ہے تم نیک باتوں کا حکم کرتے ہو اور بری باتوں سے روکتے ہو اور اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہو ۔‘‘
[2] امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا نام ابو عبداللہ محمد بن ادریس بن العباس بن عثمان بن شافع الہاشمی القرشی ہے۔ 150 ہجری میں غزہ میں پیدا ہوئے۔اور سن 204ہجری میں مصر میں وفات پائی ۔آپ ائمہ اربعہ میں سے ایک تھے۔