کتاب: فہم دین کے تین بنیادی اصول - صفحہ 22
[1]﴿وَالْعَصْرِ o اِِنَّ الْاِِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ o اِِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا
[1] [حاشیہ کا بقیہ]کی طبیعت ہے سوائے ان لوگوں کے جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے نوازا ہو۔اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے ہیں : ﴿وَ لَقَدْ کُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِکَ فَصَبَرُوْاعَلٰی مَا کُذِّبُوْا وَ اُوْذُوْا حَتّٰٓی اَتٰہُمْ نَصْرُنَا﴾ (الانعام: 34) ’’ اور بہت سے پیغمبر جو آپ سے پہلے ہوئے ہیں ان کی بھی تکذیب کی جاچکی ہے سو انہوں نے اس پر صبر ہی کیا، ان کی تکذیب کی گئی اور ان کو ایذائیں پہنچائی گئیں یہاں تک کہ ہماری امداد ان کو آن پہنچی۔‘‘ جب بھی اللہ تعالیٰ کی راہ میں تکلیف جتنی سخت ہوجاتی ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصرت اتنا ہی قریب ہوتی ہے۔یہ نصرت الٰہی اس بات کے ساتھ خاص نہیں کہ انسان کی زندگی میں ہی اس کی مدد کی جائے اوروہ اپنی زندگی میں اس دعوت کے اثرات دیکھ لے ۔بلکہ بیشتر اوقات ایسے ہوتا ہے کہ اس دعوت کے اثرات موت کے بعد ظاہر ہوتے ہیں ۔وہ اس طرح سے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کے دلوں کو اس دعوت کی قبولیت کے لیے کھول دیتے ہیں ۔پھرلوگ اسے قبول کرتے ہیں اور مضبوطی سے اس پر کاربند رہتے ہیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس داعی کی مدد و نصرت ہے، خواہ اس کے مرنے کے بعد ہی کیوں نہ ہو۔ پس داعی کو چاہیے کہ وہ برابراپنے کام پر لگارہے اورمصائب پر صبر کرے۔جس چیز کی دعوت پیش کررہا ہے صبر کے ساتھ اس پر قائم رہے۔ نیز اس راہ میں جتنی بھی مشکلات پیش آجائیں ان پر بھی صبر کرے۔اور ہر تکلیف کو خندہ پیشانی سے اللہ کی رضا کے لیے برداشت کر لے۔ دیکھو!اللہ تعالیٰ کے انبیائے کرام علیہم السلام کو بھی قول اور فعل سے اذیت دی گئی۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ﴿ کَذٰلِکَ مَا اَتَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ ﴾ (الذاریات:52) ’’اس طرح جو لوگ ان سے پہلے گزرے ہیں ان کے پاس جو بھی رسول آیا تو انہوں نے کہہ دیا کہ یا تو یہ جادوگر ہے یا دیوانہ ہے۔‘‘نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا مِّنَ الْمُجْرِمِیْنَ﴾ (الفرقان: 31) ’’اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے دشمن مجرموں کو بنا دیا ہے۔‘‘ لیکن دعوت کا کام کرنے والوں کو چاہیے کہ صبر و استقامت کے ساتھ ان تمام باتوں کا مقابلہ کرے۔ دیکھیں !اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مخاطب ہوکر فرماتے ہیں :﴿اِِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَیْکَ الْقُرْاٰنَ تَنْزِیْلًا﴾ (الانسان :23)’’بیشک ہم نے آپ پر بتدریج قرآن نازل کیا ہے‘‘ . یہ متوقع تھا کہ اب کہا جاتاکہ:اپنے رب کی شکر گزاری بجالائیے، مگراللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَاصْبِرْ لِحُکْمِ رَبِّکَ﴾ (الانسان: 24) ’’پس آپ اپنے رب کے حکم پر صبر کیجیے۔‘‘ یہاں پر اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ جو کوئی بھی اس قرآن کو قائم کرنے کی کوشش [حاشیہ جاری ہے]