کتاب: فہم دین کے تین بنیادی اصول - صفحہ 20
دوسرا مسئلہ:…عمل۔[1]
تیسرا مسئلہ:… اس کی دعوت۔[2]
[1] یعنی یہ معرفت جس چیز کا تقاضا کر تی ہے۔ اس کے مطابق عمل کرنا۔جیسے اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا اس کے جاری کردہ احکام کی بجا آوریمنع کردہ چیزوں سے اجتناب اوردوری۔یعنی ہر خاص وعام عبادت میں اورمتعدی عبادت کے ذریعہ اس کی اطاعت گزاری۔ خاص عبادات جیسے نماز روزہ اورحج وغیرہ۔اور متعدی عبادت(جس کا فائدہ دوسروں کو بھی پہنچتا ہو)جیسے:امر بالمعروف نہی عن المنکر اور جہاد فی سبیل اللہ اور ان کے مشابہ دوسری عبادات۔حقیقت میں عمل علم کا ثمرہ ہے۔پس اگر کوئی انسان علم کے بغیر عمل کرتا ہے تو وہ نصاریٰ کے مشابہ ہے۔ اورجو انسان علم رکھتے ہوئے عمل نہیں کرتا وہ یہود کے مشابہ ہے۔
[2] یعنی اللہ تعالیٰ کی جو شریعت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے ہیں اس کی تبلیغ ان چار طریقوں پر کار بند رہتے ہوئے کرنا جن کا ذکر قرآن مجید میں آیاہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَ الْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَ جَادِلْہُمْ بِالَّتِیْ ہِیَ اَحْسَنُ﴾ [النحل: 125]
’’اپنے رب کی راہ کی طرف لوگوں کو حکمت اور بہترین نصیحت کے ساتھ بلائیے اور ان سے بہترین طریقے سے گفتگو کیجئے۔‘‘نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿وَ لَا تُجَادِلُوْٓا اَھْلَ الْکِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِیْ ہِیَ اَحْسَنُ اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْہُمْ ﴾ [العنکبوت:46] ’’اور اہل کتاب کے ساتھ بحث و مباحثہ نہ کرو مگر اس طریقہ پر جو عمدہ ہومگر ان کے ساتھ جو ان میں سے ظالم ہیں ۔‘‘
دعوت کا کام کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی شریعت کا علم ہونا بہت ضروری ہے تاکہ دعوت کاکام علم و بصیرت کی روشنی میں ممکن ہو۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿قُلْ ھٰذِہٖ سَبِیْلیْٓ اَدْعُوْٓا اِلَی اللّٰہِ عَلٰی بَصِیْرَۃٍ اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِیْ وَ سُبْحٰنَ اللّٰہِ وَ مَآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْن﴾ [یوسف: 108]
’ ’آپ فرما دیجئے میری راہ یہی ہے، میں اورمیرے پیروکار اللہ تعالیٰ کی طرف بلا رہے ہیں ، پورے یقین اور اعتماد کے ساتھ اور اللہ تعالیٰ پاک ہے اور میں مشرکوں میں نہیں۔‘‘
یہ بصیرت اس چیز کے متعلق ہونی چاہیے جس کی طرف داعی دعوت دے رہا ہو۔نیز داعی کو چاہیے کہ وہ حکم شرعی اور دعوت کی کیفیت کے ساتھ ساتھ مدعو کے حال سے بھی واقف اورآگاہ ہو۔
دعوت کے میدان بہت سارے ہیں ان میں سے:
خطابت کے ذریعہ اللہ کے دین کی دعوت تقریر اوردروس ومقالات تحریریں اور علمی حلقات کا قیام۔اور تالیف وتصنیف کے ذریعہ دین کی دعوت اورنشرو اشاعت۔اور ایسے ہی اپنی خاص[حاشیہ جاری ہے]