کتاب: فہم دین کے تین بنیادی اصول - صفحہ 16
[1]الرَّحمٰنِ[2]الرَّحِیْمِ[3] ’’جو بہت مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے ۔‘‘
جان لیجئے[4]اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے! [5]
[1] [بقیہ حاشیہ]: نکال کر(ایمان کی)روشنی میں لائیں اس زبردست اور خوبیوں والے اللہ تعالیٰ کی راہ کی طرف اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین ہے اور دیکھو سخت عذاب کی مصیبت کافروں کے لیے ہے۔‘‘ [اس آیت ]میں بھی ہم یہ نہیں کہتے کہ یہاں پر لفظ جلالہ اللہ تعالیٰ کی صفت واقع ہوا ہے بلکہ ہم کہتے ہیں :یہاں پر لفظ جلالہ عطف بیان ہے تاکہ نعت منعوت کی طرح تابع نہ ہو۔
[2] الرحمن:… اللہ تعالیٰ کے اسماء خاصہ میں سے ہے اس کا اطلاق کسی غیر پر نہیں کیا جاسکتا۔ رحمن کامعنی ہے :وہ وسیع رحمتوں سے متصف ہے۔
[3] الرحیم:…یہ بھی اللہ تعالیٰ کے اسماء میں سے ہے۔اس کااطلاق اللہ تعالیٰ پر بھی ہوتا ہے اور غیر پر بھی۔ اس کا معنی ہے رحمت واصلہ والا۔ رحمن کامعنی ہے وسیع رحمتوں والا۔ اور رحیم کا معنی ہے: رحمت واصلہ( پہنچی ہوئی رحمت) والا۔ جب یہ دونوں صفات جمع ہوگئیں تو اب رحیم سے مراد یہ ہوگا کہ وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنی رحمتیں انعام کرتا ہے۔ جیسا فرمان الٰہی ہے:﴿یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآئُ وَ یَرْحَمُ مَنْ یَّشَآئُ وَ اِلَیْہِ تُقْلَبُوْنَ ﴾ (عنکبوت:21) ’’وہ جسے چاہے عذاب دے اور جس پر چاہے رحم فرمائے اور تم (سب) اسی کے پاس لوٹ کر جاؤ گے۔‘‘
[4] علم کسی چیز کے ادراک جازم (پختہ علم)کو کہتے ہیں ۔ اس کے چھ مراتب ہیں :
پہلا مرتبہ علم :…کسی چیز کی اصل حقیقت کا پختہ علم اور جازم ادراک و معلومات۔
دوسرا مرتبہ جہل بسیط:… کسی چیز کے متعلق معلومات کا بالکل نہ ہونا۔
تیسرا مرتبہ جہل مرکب:…کسی چیزکے متعلق ایسی معلومات ہونا جو اس کی حقیقت کے خلاف ہوں ۔
چوتھا مرتبہ وہم:… کسی چیز کے متعلق ایسا ادراک کہ اس کی ضد کے راجح ہونے کا بھی امکان ہو۔
پانچواں مرتبہ شک:… کسی چیز کے متعلق ایسا ادراک کہ اس کے مساوی کے راجح ہونے کا بھی امکان ہو۔
چھٹا مرتبہ ظن:… کسی چیز کے متعلق ایسا ادراک کہ اس کی ضد کے مرجوح ہونے کا بھی امکان ہو۔
پھر علم کی دو قسمیں ہیں : (۱)علم ضروری اور (۲)علم نظری۔
(۱)علم ضروری:… جس میں کسی چیز کے متعلق بغیر کسی نظر و استدلال کے ضروری طور پر علم حاصل ہو۔ جیسے اس بات کا علم کہ آگ گرم ہوتی ہے۔
(۲)علم نظری:… جس کے لیے نظرو استدلال کی ضرورت ہو جیسے وضو میں نیت کے واجب ہونے کا علم۔
[5] اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے!یعنی آپ پر اپنی رحمتیں ایسے بہا دے جس سے آپ [جاری ہے ]