کتاب: فضائل رمضان و روزہ انوار و تجلیات برکات و ثمرات - صفحہ 83
’’اللہ تعالیٰ کیلئے خالص نیّت کے ساتھ کھانے پینے اور جماع کرنے سے رک جانے کا نام روزہ ہے۔‘‘ بعض فقہاء نے طلوعِ فجر سے لیکر غروبِ آفتاب تک پورا دن،اللہ کا تقرب حاصل کرنے کیلئے پیٹ اور نفس کی خواہشات سے باز رہنے کو روزہ کہا ہے اور یہ تعریف اتنی جامع ہے کہ مزید کسی وضاحت کی ضرورت ہی باقی نہیں رہ جاتی۔ شک کے دن کا یا سلامی واستقبال کا روزہ: بعض لوگ رمضان المبارک کی آمد سے دو ایک دن پہلے روزہ رکھتے ہیں جسے ’’سلامی‘‘ یا استقبالِ رمضان کا روزہ کہتے ہیں اور انکا نظر یہ دراصل یہ ہوتا ہے کہ اگر چاند انتیس(۲۹) کا ہوا اور کسی وجہ سے نظرنہ آیا تو ہمارا یہ روزہ رمضان کا پہلا روزہ ہوجائے گا ورنہ ایک روزہ کم رہ جانے کا اندیشہ ہے اور اگر چاند تیس(۳۰) کا ہی ہوا تو ہمارا یہ روزہ محض رمضان کو ’’سلامی دینے‘‘ یا پھر اسکا ’’ استقبال‘‘ کرنے کیلئے ہوجائیگا۔لیکن ان کا یہ نظریہ قطعاً غلط ہے کیونکہ شک کے دن کا یا سلامی واستقبال کا روزہ رکھنا صحیح احادیث کی رو سے منع ہے اور ایسا کرنے پر ثواب کی بجائے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کی نافرمانی وعدمِ اطاعت کا گناہ لازم آتا ہے چنانچہ صحیح بخاری ومسلم اور ترمذی و نسائی میں ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے : ((لَا یَتَقَدَّمَنَّ اَحَدُکُمْ رَمَضَانَ بِصَوْمِ یَوْمٍ اَوْیَوْمَیْنِ اِلَّا اَنْ یَّکُوْنَ رَجُلٌ یَصُوْمُ صَوْمَہٗ فَلْیَصُمْ ذَالِکَ الْیَوْمَ)) [1] ’’تم میں سے کوئی شخص رمضان سے ایک یا دودن پہلے روزہ نہ رکھے سوائے اس شخص کے جو کسی دن (پیر وجمعرات)کا روزہ رکھتا آرہا ہو(اور وہ دن رمضان سے ایک یا دو دن پہلے یعنی آخر شعبان میں آجائے) تو وہ روزہ رکھ لے۔‘‘ [1] بخاری مع الفتح ۴؍۱۰۹،ریاض الصالحین ،ص ۴۸۱