کتاب: فضائل رمضان و روزہ انوار و تجلیات برکات و ثمرات - صفحہ 76
حدیث نمبر۳: ((مَنْ صَامَ رَمَضَانَ اِیْمَاناً وَّاِحْتِسَاباً غُفِرَلَہٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ وَمَا تَاَخَّرَ)) [1] ’’جس نے بحالتِ ایمان اور بغرضِ ثواب رمضان المبارک کے روزے رکھے اسکے سابقہ ومتاخرہ تمام گناہ معاف کیے گئے۔‘‘ حدیث نمبر۴: ((لَا یَتَقَدَّ مَنَّ اَحَدُکُمْ رَمَضَانَ بِصَوْمِ یَوْمٍ وَلَایَوْمَیْنِ اِلَّا اَنْ یَّکُوْنَ رَجُلٌ یَصُوْمُ صَوْمَہٗ،فَلْیُصْبِحْ ذَالِکَ الْیَوْمِ)) [2] ’’تم میں سے کوئی شخص رمضان سے ایک یا دو دن پہلے(استقبال یا سلامی کا)روزہ نہ رکھے۔ہاں اگر کوئی شخص روزے رکھتا آرہا ہے تو وہ رکھ لے۔‘‘ حدیث نمبر۵: ((اِذَاجَائَ رَمَضَانُ فُتِحَتْ اَبْوَابُ الْجَنَّۃِ)) [3] ’’جب رمضان المبارک آجائے تو جنّت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔‘‘ حدیث نمبر۶: ((اِذَا جَائَ رَمَضَانُ فَصُمْ ثَلَا ثِیْنَ اِلَّا اَنْ تَرَیٰ الْھِلَالَ قَبْلَ ذَالِکَ)) [4] [1] تاریخ بغداد للخطیب عن ابن عباس،نسائی ومسنداحمد وحلیۃ الاولیاء ابونعیم عن ابی ہریرہ ومسنداحمد عن عبادہ ثبحوالہ صحیح الجامع ۳؍۵؍۳۰۹ [2] بخاری ومسلم ابوداؤدو ترمذی، مسنداحمد عن ابی ہریرہ صبحوالہ بخاری وفتح الباری۴؍۱۱۲۔۱۱۳،۱۲۸ [3] بخاری ومسلم ،نسائی ومسنداحمد عن ابی ہریرہ صبحوالہ بخاری و الفتح ۴؍۱۱۲ وصحیح الجامع ۱؍۱۸۸ [4] طبرانی،طحاوی،احمد بحوالہ صحیح الجامع ۱؍۱؍۱۸۸ ۔عن عدی بن حاتمص