کتاب: فضائل رمضان و روزہ انوار و تجلیات برکات و ثمرات - صفحہ 63
تمام نفسیاتی امراض کا بہترین اور مفت علاج ہے۔[1] معلوم ہواکہ رمضان المبارک جہاں نیکیاں کمانے کا سیزن ہے وہیں مہلک امراض سے نجات پانے کا ذریعہ بھی ہے اور مغربی ممالک کے ان غیر مسلم ماہرین اورمسلم اطبّاء کی تحقیقات وشہادات اس امر کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ ۲۱) روزہ کے اقتصادی فوائد وثمرات: روزہ کے طبی ونفسیاتی پہلوؤں کے علاوہ یہ بیشمار مادی واقتصادی فوائد وثمرات کا ذریعہ بھی ہے،اور نظم وضبط سکھانے کا سبب بھی،جسکی تفصیلات مطلوب ہوں تو علّامہ محمد رشید رضا مصری کی تفسیر المنار جلد ۲ ص ۱۴۴۔۱۴۹(طبع بیروت) اور ڈاکٹر مصطفیٰ السباعی(مؤلف السنہ ومکانتہافی التشریع الاسلامی) کی کتاب’’احکام الصیام وفلسفتہٗ‘‘ ص ۳۸تا۴۲ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ترکِ روزہ پر وعید: روحانی وجسمانی اور دنیوی واخروی فوائد وبرکات پر مشتمل اس عبادت’’روزہ‘‘ کو اسلام میں فرض قرار دیا گیا ہے۔اور فطرتِ سلیمہ کا تقاضا تو یہ ہے کہ پورے جوش وجذبہ اور شوق وذوق کے ساتھ نہ صرف ماہِ رمضان میں ہی روزوں کی پابندی ہو بلکہ غیر رمضان کے نفلی روزے رکھنے میں بھی کمی نہ کی جائے(جنکی تفصیل بھی اس کتاب کے دوسرے حصے ’’احکام ومسائل ِ روزہ‘‘میں ذکر کردی گئی ہے۔)یا کم از کم سال بعد اس ایک ماہ کے روزوں میں سے تو کوئی ایک روزہ بھی چھوڑنے کے جرم کا ارتکاب نہ کریں،ورنہ پھر یہ بھی یادرہے کہ رمضان المبارک کا ایک بھی روزہ جان بوجھ کر بلا عذرِ شرعی چھوڑدیا تو یہ گناہِ کبیرہ ہے،جیسا کہ علّامہ ذہبی رحمہ اللہ کی کتاب الکبائر سے معلوم ہورہا ہے کہ انہوں نے کبیرہ گناہوں میں سے چھٹے گناہ کی [1] منارا لاسلام ایضاً ورسالۃ الصیام طبع وزارت اوقاف وامور اسلامیہ،متحدہ عرب امارات