کتاب: فضائل رمضان و روزہ انوار و تجلیات برکات و ثمرات - صفحہ 62
تک لکھا ہے کہ ملیریا کا مرض عالمی سطح پر صحت کا مسئلہ بن چکا ہے اور اس مرض سے بچاؤ کیلئے دوائیں ایجاد ہوئی ہیں۔اور آگے چل کر وہ غیر مسلم ڈاکٹرلکھتا ہے: ’’مگر کیا سب سے بڑھ کر خوشی کی بات یہ نہیں کہ شریعتِ اسلامیہ میں اسکے علاج کا جو طریقہ’’روزہ‘‘کی شکل میں ہے،وہ ایک توقطعاً غیر کیمیائی ہے اور میڈیکل کی زبان میں یہ کہ اسکے رِی ایکشن یا ردِّ عمل کا بھی کوئی خطرہ نہیں اور علمِ اقتصادیات کی زبان میں یہ علاج کلّی طور پر مفت بلکہ مفت سے بھی بڑھ کرہے اس میں سو فی صد(۱۰۰%)سے زیادہ منافع ہے۔‘‘[1] جدید تحقیقات نے یہ بھی ثابت کردیا ہے کہ روزہ کی وجہ سے آدمی گردے کی بیماری،پیروں کے وَرم اور جوڑوں کے پرانے دردوں سے محفوظ رہتا ہے۔روزہ قلبی امراض،موٹاپے،بلڈپریشر وغیرہ کیلئے بھی مفید اور معاون علاج ہے۔ایسے ہی جِلدی امراض کیل مہاسوں،سر کے وسط میں پیدا ہونے والی سِکری،دماغی خشکی اور گنجے پن کا موزوں ترین علاج بھی روزہ ہے۔[2] ایک سعودی ڈاکٹر ایاز سبیّل کا کہنا ہے کہ روزہ السر کی بیماری کیلئے ایک تیر بہدف نسخہ ہے،جسکی تفصیل روزنامہ جنگ لاہور بابت ۱۰رمضان ۱۴۰۸ ؁ھ بمطابق ۲۷ اپریل ۱۹۸۸ ؁ء میں (ص۸پر) شائع ہوچکی ہے۔ ۲۰) روزہ کے نفسیاتی فوائد وثمرات: ماہرینِ نفسیات کے یہاں یہ امر مسلّم ہے کہ نفسیاتی اضطراب،قلق،حزن،پثر مردگی وافسردگی،وسوسہ اور ہسٹیریا وغیرہ کا اصل سبب قوّتِ ارادی وقوّتِ برداشت اور خود اعتمادی کا فقدان ہے جبکہ روزہ انسان میں قوّتِ ارادی،رُشدِ نفسی اور خود اعتمادی پیدا کرتا ہے۔لہٰذا روزہ [1] بحوالہ مجلہ ماہنامہ منار الاسلام۔ابوظہبی،جلد۶،شمارہ ۹، ۱۴۰۱؁ھ ، ۱۹۸۱؁ء [2] حوالہ سابقہ ایضاً