کتاب: فضائل رمضان و روزہ انوار و تجلیات برکات و ثمرات - صفحہ 107
ایسے میں روزہ توڑنے کی تو اجازت دی گئی ہے اور ایسی نادر صورتوں میں اس پر کوئی کفّارہ بھی نہیں ہوگا بلکہ صرف قضاء ہی ہوگی۔اور اگر کہیں ایسی صورت مسلسل ہوتو اسکے بارے میں اہلِ علم کو سوچنا چاہیئے کہ وہ لوگ اگر قریبی معتدل موسم والے علاقوں کی رعایت کرتے ہوئے غروبِ آفتاب سے پہلے روزہ افطار کرلیں تو انکے لیے جائز ہے یا نہیں ؟ البتہ جہاں ایک طویل عرصہ(کئی ماہ) تک دن اور پھر اسی طرح رات کا سلسلہ رہتا ہو(جیسے قطبین اور انکے قریبی علاقے ہیں ) وہاں روزہ کا کیاحکم ہے؟ اس سلسلہ میں فقہاء کی آراء مختلف ہیں جسکی بنیاد طویل الاوقات علاقوں میں نماز کے حکم پر ہے۔ ایسے علاقوں میں اندازہ سے پانچ نمازیں ادا کی جائیں گی کیونکہ نمازِ پنجگانہ کی فرضیت بلا تخصیص تمام مسلمانوں کے لیے عام ہے اور اس بات کا پتہ خود حدیثِ شریف میں مذکور ایک واقعہ سے بھی چلتا ہے جس میں حضرت نوّاس بن سمعان رضی اللہ عنہ کی روایت کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دجّال کے ظہور کے وقت ایک ایسے دن کی پیشین گوئی فرمائی ہے جو ایک سال کے برابر ہوگا اور اس حدیث میں مذکور ہے: ((فَذَالِکَ الْیَوْمُ الَّذِیْ کَسَنَۃٍ، أَتَکْفِیْنَافِیْہِ صَلوٰۃُ یَوْمٍ؟ قَالَ:لَا،اُقْدُرُوْالَہٗ قَدْرَہٗ الخ)) [1] ’’ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا:اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اس دن جو ایک سال کے مساوی ہوگا کیا ایک دن کی نماز کافی ہوجائیگی؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:نہیں ،بلکہ اس دن اندازہ سے کام لو۔‘‘ اس حدیث نے گویا نمازوں کے مسئلہ کو دو ٹوک کردیا ہے کہ انکے اوقات کے لیے اندازہ سے کام لیا جائیگا کہ ہر چوبیس[۲۴] گھنٹوں کو ایک شب وروز تصور کرکے اوقاتِ نماز کے درمیان جو [1] صحیح مسلم مع النووی ۹؍۱۸؍۶۵-۶۶ ،صحیح الترمذی للالبانی ۲؍۲۴۹ طبع الریاض مکتب التربیۃ لدول الخلیج