کتاب: فضائل اہل حدیث - صفحہ 7
کتاب: فضائل اہل حدیث مصنف: احمد بن علی بن ثابت الخطیب بغدادی پبلیشر: دار التقوی کراچی ترجمہ: الشیخ خالد گھرجاکھی حفظہ اللہ بسم اللّٰه الرحمن الرحیم تعارف الحمد للّٰہ الذی اصح حدیث دینہ باسنادہ الرفیع ۔ واوثق سنتہ باسناد رسولہ محمدن الشفیع۔ والصلوۃ والسلام علی من اسند شرعتہ بالصحۃ الکاملۃ واحسن الضنیع ۔ وعلی آلہ واصحابہ ھداۃ السبیل من غیر شذ وذ و تدلیس شنیع ۔ اللہم صل وسلم علی ما طلع القمران و تعاقبت الملوان حدیث کا لفظ عربی زبان میں گفتگو کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ گفتگو کا تعلق حق تعالیٰ سے ہو یا انبیاء علیہم السلام یاعامۃ الناس سے، مگر فن حدیث کی اشاعت اوررواج کے بعد یہ لفظ حقیقت عرفیہ کے طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فداہ ابی وامی کے اقوال و افعال وغیرہ پر بولا جاتا ہے۔ خصوصاً دینی امور اور اسلامی مسائل میں جب حدیث کا تذکرہ آجائے تو اس سے مراد صرف حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہوگی۔ ائمہ فن کبھی بعض صحابہ کے ارشادات کو بھی اس میں شامل فرمالیتے ہیں۔ موطا امام مالک، مصنف ابوبکر بن ابی شیبہ اور مسند طیالسی وغیرہ کو آثار کی کثرت کے باوجود عموماً حدیث ہی کی کتب میں شامل سمجھا گیا ہے۔ تدوین فن حدیث کے جمع و تدوین کی رفتار بالکل طبعی ہے۔ ابتداء میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے واقعات ،آپ کے سیر اور مغازی ، سفر و حضر کے حوادث ذہنوں میں منقش تھے۔ جیسے دنیا میں دیکھے بھالے اہم واقعات ذہنوں میں مرتسم ہوتے ہیں۔ سالہا سال تک وہ ذہن سے نہیں اترتے۔