کتاب: فتاویٰ یوسف القرضاوی (جلد اول) - صفحہ 33
کتاب: فتاویٰ یوسف القرضاوی (جلد اول) مصنف: علامہ ڈاکٹر یوسف القرضاوی پبلیشر: البدر پبلی کیشنز ترجمہ: سید زاہد اصغر فلاحی پہلا باب قرآنی آیات سورج کی گردش سوال:۔ ماہرین فلکیات دعویٰ کرتے ہیں کہ زمین سورج کے اردگرد گھومتی ہے اور سورج اپنے مرکز پر ٹھہرا ہوا ہے۔ حالانکہ قرآن کی رو سے زمین اور سورج دونوں ہی محوگردش ہیں۔ ارشادباری تعالیٰ ہے: "وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ كُلٌّ يَجْرِي إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى" (لقمان:29) اس نے سورج اور چاند کو مسخر کررکھا ہے۔ سب ایک وقت مقرر تک چلےجارہے ہیں۔ ماہرین فلکیات کے دعوے اور قرآنی فکر کے درمیان تطبیق کی کیا صورت ہوسکتی ہے؟ جواب۔ موجودہ صدی اور اس سے قبل بھی ماہرین فلکیات دعوے کرتے رہے ہیں کہ سورج اپنے مرکز پر ثابت وقائم ہے اور زمین اس کے اردگرد گھومتی ہےان کا یہ دعویٰ قرآنی نظریے کےبالکل خلاف ہے۔ قرآن نے متعدد آیات میں سورج کی گردش کا ذکر کیا ہے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ فرماتاہے: "وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا ۚ ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ"(یٰسین:38) اور سورج، وہ اپنے ٹھکانے کی طرف چلاجارہا ہے، یہ زبردست علیم ہستی کا