کتاب: فتاویٰ صراط مستقیم - صفحہ 418
ماسوائے اس عورت کےجس نےاس بچے کوحمل گراکرضائع کیا۔ غرہ کی قیمت کےبارےمیں لکھتےہیں: ’’غرہ دیت کےبیسویں حصے کےبرابر ہے، یعنی پانچ اونٹ۔ یہ قول حضرت عمر رضی اللہ عنہ اورحضرت زیدرضی اللہ عنہ سےمروی ہےاوربعد کےعلماء میں نخعی، شعبی،ربیعہ،قتادہ اورامام مالک،امام شافعی اوراصحاب الرائے کابھی یہی قول ہے۔[1] سورہ نساء کی آیت : 92 سےیہ بھی معلوم ہوتاہےکہ مقتول کےورثاء اگردیت معاف کردیں تو پھردیت کادینا واجب نہیں رہتا۔ یہ تفصیل اس لیے لکھ دی گئی ہےتاکہ اس مسئلہ کی وضاحت ہوجائے۔عام طورپر خواتین اسقاط میں تساہل سےکام لیتی ہیں۔ انہیں علم ہوناچاہیے کہ اگر مجبوری کی بنا پر بھی(جس کاتذکرہ شروع میں آچکاہے) اسقاط کرایا ہوتو اس میں مذکورہ بالا دیت واجب ہوگی اوربقول بعض اہل علم ایک غلام کاآزاد کرنا بھی واجب ہوگااورچونکہ غلام کادور باقی نہیں رہاہے، اس لیے اس کےعوض میں دوماہ کےلگاتارروزے رکھنا ہوں گے۔واللہ اعلم یہ گزارشات تواصل مسئلہ سےمتعلق تھیں، خواتین اسقاط کرانے کےلیے بعض دوسرے اسباب بھی پیش کرتی ہیں، جیسے، نکاح سےپہلے زنا کی بنا پرحمل قرار پاگیا اور اب عورت بدنامی سےبچنے کےلیے بچہ ضائع کرناچاہتی ہے، یعنی قصور اپنا لیکن ایک معصوم کوبلا وجہ قتل کیاجائے۔ ایسی عورت جس سےزبردستی بدفعلی کی گئی اورجس کےنتیجے میں حمل قرارپاگیایہ
[1] المغنی : 12؍ 66