کتاب: فتاویٰ صراط مستقیم - صفحہ 417
کفارہ کی تفصیل یہ ہے:
کسی بھی مسلمان کااگر غلطی سےقتل ہوجائے تواس میں دیت اورکفارہ ایک غلام آزاد کرناواجب ہوجاتا ہے۔ اگرغلام آزاد کرنے کی استطاعت نہ ہوتودوماہ کےلگاتارروزے رکھنا واجب ہوجاتاہے۔[1]
البتہ اگر کسی حاملہ عورت کوچوٹ پہنچائی گئی، جس سے اس کاحمل ساقط ہوگیاتو بروایت مغیرہ بن شعبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےچوٹ پہنچانے والے پرایک غلام(مرد یالونڈی) دینے کا فیصلہ سنایا۔[2]
لیکن اگرمذکورہ سوال کےمطابق عورت نےخود اسقاط کروایاہوتو کیا اس کابھی یہی حکم ہوگا؟
ابن قدامہ المغنی میں لکھتےہیں:
{ و إذا شربت الحامل دواء فألقت به جنيئا فعليها غرة لا ترث منها شيئاً وتعتق رقبة}
’’ اگرحاملہ عورت ایسی دواپی لےجس سےحمل ساقط ہوجائے تواس پر ایک غرہ(غلام کادینا) واجب ہو جاتا ہے۔ وہ اس غرہ کی وارث نہیں ہو گی اور اسے (بطور کفارہ) ایک غلام آزاد کرنا ہوگا۔‘‘ [3]
غلام آزاد کرنےمیں اختلاف ہے۔ اکثر علماء کےنزدیک صرف غرہ کادینا ہی کافی ہے اور اس غرہ کےوارث وہ سب لوگ ہوں گے جواس بچے کےحقیقی وارث تھے،
[1] النساء4: 92
[2] صحیح البخاری ، الدیات ، حدیث: 6905، و صحیح مسلم ، القسامۃ، حدیث: 1682
[3] المغنی:12؍81