کتاب: فتاویٰ صراط مستقیم - صفحہ 415
جواب:اسقاط حمل اسی لیے منع قرار دیاگیا ہےکہ اس کی بنا پر ایک انسانی جان ضائع ہوتی ہے۔ یہ صحیح ہےکہ جنین میں چارماہ گزرنے پرروح پھونک دی جاتی ہے لیکن نطفہ کےحمل میں استقرار ہوتےہی اس میں بڑھنے اورپرورش پانے کی صلاحیت پیدا ہوجاتی ہے۔اگر نطفے کوقدرتی حالات میں چھوڑ دیاجائےتووہ علقہ (جونکہ کی مانند کیڑا)، پھرمضغہ(گوشت کالوتھڑا) پھرعظام(ہڈیوں کےہیکل) میں تبدیل ہوکر رہےگا یہاں تک کہ اس میں روح پھونک دی جاتی ہے۔ چارماہ سےپہلے ہی اگراس کوضائع کردیا گیا توبظاہر ایک ذی مخلوق کوضائع نہیں کیاگیا لیکن اس کی مثال ایسےہی ہےجیسے درخت کےبیج کوجو زمین میں درخت اگانے کےلیے دبا دیا گیاتھا، اسےزمین سےکھود کرباہر پھینک دیاجائے۔یہ بیج اگر زمین کی گود میں دبارہتاتووہ پودے کی شکل میں اپنا سرنکالتا اورپھر ایک دن تناور درخت کی شکل اختیار کرلیتا۔ بہرصورت اسقاط حمل عموماً توممنوع ہے، خاص خاص حالات میں جائز ہوسکتاہے لیکن مندرجہ ذیل شروط کا خیال رکھاجائے: کم از کم دویاتین ڈاکٹرز اس بات کی رپورٹ دیں کہ اگربچہ حمل میں باقی رہاتو بوقت ولادت یاولادت سےقبل ماں کی جان کوخطرہ ہوسکتاہے۔ ایسی صورت میں بہتر ہےکہ چار ماہ سےقبل ہی اسقاط کرا لیا جائے تاکہ کم از کم ذی روح مخلوق کومارنے کاگناہ لازم نہ ہو۔ اگرچار ماہ گزرچکے ہیں اورڈاکٹروں کامتفقہ فیصلہ ہوکہ ماں کی جان کوشدید خطرہ لاحق ہےتوبھی اسقاط کرایاجاسکتاہےاوراگر ایسا کیا توقتل خطا کاکفارہ ادا کیاجائے،جس کی تفصیل بعد میں آرہی ہے۔