کتاب: فتاویٰ صراط مستقیم - صفحہ 411
ذکر کیاتوانہوں نےکہا:انہوں نےسچ کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے........۔ [1] اوراسی روایت کوعبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کےواسطے سےبھی(موصولا) ذکر کیا۔[2] (خیال رہےکہ جہاں تک اس مسئلے کاتعلق ہے تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےشروع شروع میں ایسا کرنے سےاس لیے منع فرمایا تھا تاکہ تین دن کےاندر اندر مساکین وغرباء میں گوشت تقسیم کیاجاسکے،لیکن جب اللہ تعالیٰ نےمسلمانوں کوفراوانی سےنوازا تو آپ نےگوشت کوذخیرہ کرنے اورکھانے کی اجازت دےدی۔) 3۔ وہ واحد روایت جو(صحیح مسلم میں دوسری جگہ) موصول نہیں پائی گئی: ابوالعلاء بن شخیر سےروایت ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض حدیثیں بعض دوسری حدیثوں کومنسوخ کرتی ہیں۔ [3] جہاں تک معلّق روایات(وہ روایت کہ جس کی شروع کی سند محذوف ہو) کاتعلق ہےتو صحیح مسلم میں ان کی تعداد صرف بارہ ہےاور وہ ساری ساری زندگی سند کےساتھ، یعنی موصول بھی پائی گئی ہیں۔[4]
[1] صحیح مسلم ،الاضاحی، حدیث: 1971 [2] صحیح مسلم ، حدیث:1970 [3] صحیح مسلم،الحیض،حدیث:344،اس مرسل روایت کی موصولاً سند ہمیں نہیں ملی لیکن یہ روایت امام مسلم رحمہ اللہ نےاصالتاً درج نہیں کی بلکہ بطور شاہد ذکر کی ہےاوریہ روایت کوئی فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم نہیں ہےکہ بلکہ باہم متعارض احادیث کےمابین موافقت پیدا کرنے کا ایک وسیلہ بیان کرتی ہے۔ اور اس روایت سےپہلی حدیث اورکئی دیگر احادیث بھی مفہوماً اس کی تصدیق کرتی ہیں،اس لیے اس روایت کی بنا پر صحیح مسلم پریہ قدغن نہیں لگائی جاسکتی کہ اس میں مرسل ضعیف روایات موجود ہیں۔(ناصر) [4] ملاحظہ ہو:تدریب الراوی:1؍206،محمد بن مصطفیٰ مغاسی کی کتاب المرسل من الحدیث:172