کتاب: فتاویٰ صراط مستقیم - صفحہ 407
انفرادی اوراجتماعی دعا میں فرق اس لیے کیا گیا ہےکہ انفرادی دعا کےدلائل موجود ہیں لیکن ایک عبادت کواجتماعی طورپر ادا کرنے کےلیے علیحدہ سےدلیل کاہونا ضروری ہے۔ہم مسجد میں جاکر انفرادی طورپر تحیۃ المسجد بھی پڑھ سکتےہیں اورفجر، ظہر سےپہلے کی سنتیں بھی۔لیکن ان سنتوں کوجماعت سےنہیں پڑھا جاتا بلکہ صرف فر ض نماز جماعت سےپڑھی جاتی ہے۔ نفلی نمازوں میں قیام اللیل (تراویح) جماعت سےپڑھنا ثابت ہے، اس لیے اسےجماعت سےپڑھاجاتاہے۔ ایسے ہی سورج اورچاند گرہن کی نمازیں جنہیں صلاۃ الکسوف اورصلاۃ الخسوف کہا جاتاہے۔ یہاں آپ کےدوسرے سوال کاجواب بھی آگیا ہےکہ آیا درس قرآن کےبعد اجتماعی دعا کی جاسکتی ہے؟ یعنی انفرادی دعا کاجواز توثابت ہےلیکن اجتماع دعا کی دلیل موجود نہیں ہے۔ ہرفرض نماز کےبعدہاتھ اٹھا کر اجتماعی دعا کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سےثابت نہیں، اس لیے اس کاالتزام نہ کیا جائے۔ غیر مستند عالم کادرس قرآن دینا سوال: لندن سےم، ن لکھتےہیں کہ ایک مسئلہ حل طلب ہے۔ براہ کرم شرعی نقطہ نظر سےجواب ارسال فرمائیں،مشکور ہوں گا۔ زید کسی اسلامی مدرسہ یا یونیورسٹی سےعلوم اسلامیہ کافارغ التحصیل نہیں، نہ اس نے عربی زبان پڑھی ہے نہ کسی استاد سےاس معاملے میں رجوع کیا۔ ہاں اس کی دنیاوی تعلیم ایم اے، پی ایچ ڈی ہے،جبکہ اس نے قرآن صرف ناظرہ پڑھا ہے۔ مگر اب وہ