کتاب: فتاویٰ صراط مستقیم - صفحہ 402
سورۂ حج کی آیت نمبر 15 کی تفسیر سوال : محترمہ زنورنگ صاحبہ بذریعہ ای میل سوال کرتی ہیں کہ سورۃالحج کی اس آیت کے معنی واضح کیے جائیں : ﴿مَن كَانَ يَظُنُّ أَن لَّن يَنصُرَهُ اللّٰهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ فَلْيَمْدُدْ بِسَبَبٍ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ لْيَقْطَعْ فَلْيَنظُرْ هَلْ يُذْهِبَنَّ كَيْدُهُ مَا يَغِيظُ﴾ ’’جوشخص گمان کرتا ہے کہ اللہ ہرگز اس کی مدد نہ کرے گا دنیا و آخرت میں تو اسے چاہیے کہ ایک رسی آسمان کی طرف تانے، پھر اسے کاٹ ڈالے، پھر دیکھے کہ کیا اس کی یہ تدبیر اس چیز کو دور کر دیتی ہے جو اسے غصہ دلا رہی ہے ۔ ‘‘[1] جواب: یہ آیت قرآن کی ان آیت میں سے ہے جن کے معانی و مطالب میں کافی تنوع پایا جاتا ہے ۔ اختلاف معانی کا سبب درج ذیل یہ تین الفاظ ہیں : ینصرہ : ضمیر ’’ہ‘‘ سےکون مراد ہے ؟ اللہ کے رسول یا وہ لوگ جن کا تذکرہ آیت نمبر 8 اور آیت نمبر 11 میں ہوا ہے ، یعنی مشرکین اورمنافقین ۔ السماء: اس سے مراد آسمان ہے یا ہر وہ چیز جوانسان کے اوپر ہو ، جیسے گھر کی چھت۔ [1] الحج 22: 15