کتاب: فتاویٰ صراط مستقیم - صفحہ 396
واضح کردیا گیا ہے: ﴿ لَّا يَنْهَاكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُم مِّن دِيَارِكُمْ أَن تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ ۚ إِنَّ اللّٰه يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ ﴾ ’’اللہ تمھیں نہیں روکتا ان لوگوں سے جنھوں نے دین کے بارے میں تم سے لڑائی کی اور نہ تمھیں اپنے گھروں سے نکالا کہ تم ان سے اچھا سلوک کرو اور انصاف کرو، یقیناً اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔‘‘[1] ﴿ إِنَّمَا يَنْهَاكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِينَ قَاتَلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَأَخْرَجُوكُم مِّن دِيَارِكُمْ وَظَاهَرُوا عَلَىٰ إِخْرَاجِكُمْ أَن تَوَلَّوْهُمْ ۚ وَمَن يَتَوَلَّهُمْ فَأُولٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ ﴾ ’’اللہ صرف تمھیں ان لوگوں سے روکتا ہے جنھوں نے دین کے بارے میں تم سے لڑائی کی، تمھیں اپنے گھروں سے نکالا اور تمھارے نکالے جانے پر مدد مہیا کی، کہ تم ان سے دوستی کرو اور جو ان سے دوستی کرتا ہے تو وہی لوگ ظالم ہیں۔‘‘ [2] ان دونوں آیات سےواضح ہوگیا کہ ان لوگوں کےساتھ اچھائی اورانصاف کاسلوک کیا جاسکتاہےجنہوں نے نہ تومسلمانوں کےساتھ لڑائی کی اورنہ انہیں گھروں ہی سے نکالا۔ یورپ کےممالک نےعمومی طورپر کتنے ہی مسلمانوں کوپناہ دی ہے، بے گھروں کوگھر دیے ہیں بلکہ یہاں کی حکومتیں بےروز گاروں کوہفتہ وار الاؤنس بھی دے رہی ہیں،اس لیے ان لوگوں کےساتھ اچھاسلو ک کرنا، تحفے تحائف دینا اوردین کی دعوت دینے کےلیے ان کےگھرجانا اپنےگھر بلانا،بیماری کےعالم میں عیادت کےلیے [1] الممتحنہ 60: 8 [2] الممتحنہ 60: 9