کتاب: فتاویٰ صراط مستقیم - صفحہ 394
ہیں،ان کی اصلاح کےذمہ دار ہیں، اس لیے اب وہ جانیں اور ان کےبچے، آپ اپنی ذمہ داری سے فارغ ہوگئے۔ غیرمسلم پڑوسیوں سےملنا اورتبادلہ تحائف کرنا سوال: غیرمسلم پڑوسیوں کےساتھ ملنا جلنا، انہیں تحائف دینا کیسا ہے؟ جواب: غیرمسلم افراد کےساتھ معاملات،میل جول اوردوستی کی دوسطحیں ہیں۔ ایک سےہمیں منع کیا گیا اورایک کی اجازت دی گئی ہے۔جس سےمنع کیا گیا وہ ہے’’موالاۃ‘‘ یعنی دانت کاٹی کی دوستی کہ جس کی بناپرآپ اپنے بھیداورراز میں بھی انہیں شریک کریں،حالانکہ ان کی عداوت بھی ظاہرہو۔اللہ تعالیٰ نےارشاد فرمایا: ﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَىٰ أَوْلِيَاءَ ۘ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ ۚ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ ۗ إِنَّ اللّٰه لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ ﴾ ’’ اے ایمان والو! تم یہود ونصاریٰ کو اپنا دوست نہ بناؤ یہ ایک دوسرے کے دوست ہیں اور تم میں سے جو انھیں اپنا دوست بناتا ہے تو وہ انھی میں سے ہے، بے شک اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘[1] ایسا ہی حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےمدمقابل مشرکین عرب کاتھا جن کی عداوت ظاہر تھی۔فرمایا: ﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ تُلْقُونَ إِلَيْهِم بِالْمَوَدَّةِ وَقَدْ كَفَرُوا بِمَا جَاءَكُم مِّنَ الْحَقِّ ﴾ [1] المائدہ 5: 51