کتاب: فتاویٰ صراط مستقیم - صفحہ 393
لڑکی لڑکے کےناجائز تعلقات کےمتعلق ان کےوالدین کوبتانا سوال: میر ے علم میں ہےکہ میرے ایک دوست ؍واقف کار کی لڑکی کسی دوسرے لڑکے کےساتھ گھومتی پھرتی ہے۔کیا میں اس کےوالدین کوبتادوں یالڑکی کےاس جُرم کوچھپاؤں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:’’جس نے ایک مسلمان کےعیب کوچھپایا تو اللہ دنیا و آخرت میں اس کےعیب کو چھپائے گا۔‘‘[1] جواب: ایک عیب کاتعلق توانسان کی ذاتی زندگی سےہے، جیسے ایک شخص شراب پیتا ہے،آپ نےاُسے نصیحت کردی، اس نے نہیں مانی اورآپ اس سےکنارہ کش ہوگئے۔الا یہ کہ اسلامی حکومت ہو،آپ کےساتھ ایک گواہ اوربھی ہوتو اُسے قاضی یاحاکم کےپاس حد کےنفاذ کےلیے رپورٹ کیا جاسکتاہے۔ اوردوسرا ایک عیب ایسا ہےجس کاتعلق معاشرے سےہے۔ آپ نےجوسوال کیا ہےاس میں ایک شخص نہیں دوشخص ملوث ہیں۔ ایک خاندان نہیں بلکہ دوخاندانوں کی عزت کاسوال ہے۔ ایک منکر کھلم کھلا کیاجارہا ہےاورمنکر کےبارےمیں توآپ کومعلوم ہی ہےکہ اسےمٹانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ طاقت ہےتوطاقت سے، ورنہ زبان سےاوراگر یہ بھی ممکن نہ ہوتودل سے اسے براجاننا چاہیے،[2] اس لیے اگرآپ دونوں کوسمجھا سکتے ہوں یا ان دونوں میں سے ایک کوبھی سمجھا کراسے اس بدی سے باز رکھ سکتےہوں توایسا کرنے کی کوشش کریں اور اگرباز نہ آئیں توپھر ان کےوالدین کوآگاہ کریں۔والدین اپنے اپنےبچے کےولی [1] صحیح مسلم ، الذکر والدعاء ،حدیث: 2699 [2] صحیح مسلم،الایمان،حدیث:49