کتاب: فتاویٰ صراط مستقیم - صفحہ 389
اغلاق تک پہنچ جائے۔درجہ اغلاق سےمراد انتہائی غصہ اورغضب کی حالت ہےکہ جس میں انسان کوکچھ پتہ نہ ہوکہ وہ کیا کہہ رہا ہےاوراس کی بات کاکیا مطب ہے؟ لیکن سوال سےظاہر ہوتاہےکہ اس شخص نےدوسرےاورتیسرے دن پوچھے جانے پرطلاق دینے کےبارےمیں مزیدتاکیدی الفاظ کہے اوریہ بھی بتادیا کہ اس کی نیت طلاق دینے کی تھی۔ اس صورت میں سب کےنزدیک طلاق واقع ہوجائے گی۔ چاروں فقہی مذاہب کےنزدیک یہ طلاق بائنہ مغلظہ شمار ہوگی کیونکہ ان کے نزدیک ایک ہی دفعہ دی گئی تین طلاقیں تین ہی شمار ہوتی ہیں۔ گویا یہ طلاق ایسی ہےکہ اس کےبعد شوہر نہ رجوع کرسکتاہےاورنہ دوبارہ اس عورت سےشادی ہی کرسکتا ہے۔ مگر شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کےنزدیک صرف ایک طلاق واقع ہوگی اور اسی رائے کوکئی اسلامی ملکوں نےبھی اپنایا ہے۔ ان کےنزدیک طلاق بائن مغلظہ اسی وقت ہوگی جبکہ اس طلاق سےپہلے بھی دوطلاقیں واقع ہوچکی ہوں۔ہماری رائے میں ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کی اس رائے کولیا جاسکتاہے، خاص طورپر جبکہ سائل نےاس بات کی بھی وضاحت نہیں کی کہ اس کی شادی شرعی طورپرہوئی تھی یا صرف ملکی قانون(سول لاء) کےمطابق ہوئی تھی، اس لیے ہم نے فقہاء کےاقوال کی رواشنی میں مختصرجواب دے دیا ہے۔ ہم سائل کومشورہ دیتے ہیں کہ وہ کسی مقامی عالم سےبھی رجوع کریں تاکہ اس مسئلہ سےمتعلق تمام حالات علم میں آجائیں۔