کتاب: فتاویٰ صراط مستقیم - صفحہ 387
اول : تحریری طلاق: فقہاء کااتفاق ہےکہ طلاق واقع ہوجاتی ہے، چاہے مرد نےزبان سےطلاق کےالفاظ کہےہوں یانہ،چاہے طلاق کی نیت کی ہویانہ،صحت طلاق کےلیے انہوں صر ف یہ شرط رکھی ہےکہ تحریربالکل واضح ہو، پڑھی جاسکتی ہواوربیوی کوپہنچادی گئی ہو۔ دوم: جبری طلاق: جمہور فقہاء کےنزدیک جبری طلاق واقع نہیں ہوتی جبکہ جبرانتہائی شدید ہو،جیسےقتل کرنےیاشدت کےساتھ مارنےپیٹنے یاجسم کےکسی عضوکوکاٹنے کی دھمکی دی گئی ہواور اس کی دلیل یہ مشہور حدیث ہے:’’ اللہ تعالیٰ نےاس امت پرتین چیزوں کومعاف کردیاہے:غلطی سےکوئی کام کرنا، بھول جانا یاایسا کام جس کےکرنے پرمجبور کیاگیاہو۔‘‘[1] سوال سےظاہر ہوتاہےکہ عورت اپنی دھمکی میں سنجیدہ تھی، اس لیے اس نے چھری کواپنے پیٹ پربھی رکھ لیا،ایسی صورت میں مرد کا طلاق تحریر کرناجبر کےنتیجے میں تھا،اس لیے طلاق واقع نہیں ہوگی کیونکہ اس کااپنے آپ کوقتل کرنےکی دھمکی دینا ایسا ہی ہےجیسےاس نےخاوند کوقتل کرنےکی دھمکی دی ہوکیونکہ دونوں حالتوں میں ایک معصوم جان کاضیاع ہوتاہے۔ اس پرمستزاد یہ کہ اگرعورت نےاپنے آپ کومارلیا توخاوند بہت ساری مشکلات کاشکار ہوسکتاہے۔ نوٹ: کونسل کےاجلاس میں مذکورہ بالا رائے سےمیں نےاختلاف کااظہار کیاتھا اور کہا تھا کہ سائل کےسوال سےمعلوم ہوتاہےکہ میاں بیوی میں ناچاقی اس حدتک پہنچ چکی ہےکہ بیوی کسی صورت خاوند کےساتھ رہنا نہیں چاہتی۔اب اگر اس طلاق کو
[1] سنن ابن ماجہ، الطلاق،حدیث:2045،والمستدرک للحاکم:2؍216