کتاب: فتاویٰ صراط مستقیم - صفحہ 384
﴿ الزَّانِي لَا يَنكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً وَالزَّانِيَةُ لَا يَنكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ ۚ وَحُرِّمَ ذٰلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ ﴾ ’’زانی نکاح نہیں کرتا ہے مگر ایک زانی عورت سے یا ایک مشرک عورت سے اور ایک زانیہ عورت سے سوائے ایک زانی مرد کے یا ایک مشرک مرد کے کوئی نکاح نہیں کرتا ہے، ایسا کام مومنوں پر حرام ہے۔‘‘[1] لیکن ا‎گر عورت توبہ کرلے توپھر گناہ سےتوبہ کرنےوالا ایسا ہی ہے، جیسے وہ شخص کہ جس نےگناہ نہیں کیا۔[2] اگریہ خاتون توبہ کرلے اور پورے اخلاص کےساتھ اپنی توبہ پرقائم رہےتوبہتر ہےکہ مرد اس کی پردہ پوشی کرےاور اسےمعاف کردے لیکن اگر اس عورت نےدوبارہ ایسی حرکت کی توپھر طلاق دے کرفارغ کردے۔ اس ضمن میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی یہ حدیث پیش کی جاتی ہےکہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےپاس آیااور کہا: میری بیوی کسی چھونے والے کاہاتھ ردّ نہیں کرتی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےکہا:’’ اسے اپنے سےجدا کردو۔‘‘ اس نےکہا:مجھے ڈر ہےکہ میرانفس اس کاپیچھا کرتارہے گا توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نےکہا:’’توپھر اس سےلطف اندوز ہوتےرہو۔‘‘ دوسری روایت میں ہےکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:’’ اسےطلاق دےدو۔‘‘ اس نےکہا:میں اس کےبغیر نہیں رہ سکتا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:’’ توپھر اسے(اپنی زوجیت میں)باقی رکھو۔‘‘[3] لیکن اس حدیث کےبارے میں بقول ابن جوزی،امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نےکہاہےکہ اس باب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سےکوئی بات ثابت ہےنہ اس حدیث کی کوئی اصل
[1] النور 24: 3 [2] سنن ابن ماجہ ، الزہد، حدیث: 4250 [3] سنن ابی داؤد،النکاح،حدیث:2049،وسنن النسائی،النکاح،حدیث: 3231