کتاب: فتاویٰ صراط مستقیم - صفحہ 382
اورآپ نےاس بات کی بھی نصیحت فرمائی: اگر پرائی خاتون پرنظر پڑجانے سے شہوت پیدا ہوتو گھر آکر اپنی بیوی سےشہوت پوری کرلو۔[1] اجنبی خاتون چاہے مسلمان ہو یاغیرمسلمان،چونکہ ان کےدیکھنے اورنظارہ بازی کرنے کےاثرات ایک جیسے ہیں،اس لیے آیت کےآخر میں ارشادفرمایا:﴿ذٰلِكَ اَزْكىٰ لَهُمْ﴾ ایسا کرناان کےلیے زیادہ پاکیزہ ہے، یعنی خیالات کی پاکیزگی اسی وقت حاصل ہوگی جب اجنبی عورتوں کی موجودگی میں نگاہیں نیچی رکھی جائیں۔ مغربی معاشرے میں اورخاص طورپر اگر موسم گرم ہوتویہاں عریانی عروج پرہوتی ہے، خاص طورپر ٹرینوں میں سفر کرتےوقت جبکہ لوگ سیٹوں پرآمنے سامنے بیٹھتے ہیں اوران میں مرد وزن کی تفریق نہیں ہوتی،ایسے وقت میں غص بصر سےبھی کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ ایسی صورت میں بہتر ہےکہ کسی کتاب یااخبار کوآڑبنا لیا جائے۔نظر بازی سےبھی بچ جائیں گےاور مطالعہ بھی ہوتارہے گا۔لیکن اگریہ بھی ممکن نہ ہوتو بلوائے عام ہونےکی بنا پر ان شاء اللہ آپ معذور ہوں گےکیونکہ آپ پراستطاعت کےمطابق ہی غض بصر کرنا ہےاوراگر وہ ممکن نہ ہوتو اللہ تعالیٰ ہمیں کسی ایسے حکم کی پابندی کامکلف نہیں ٹھہراتا جوہماری استطاعت سےباہر ہوجیسا کہ ارشاد باری ہے: ﴿ لَا يُكَلِّفُ اللّٰه نفساً اِلَّا وُسْعَهَا﴾ ’’ اللہ کسی نفس پراس کی طاقت سےزیادہ تکلیف نہیں ڈالتا۔‘‘ [2] اور اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم نےارشاد فرمایا: جب میں تمہیں کسی بات کا حکم دوں تو اسےاپنی استطاعت کےمطابق بجالاؤ اورجب کسی چیز سےروکوں تواس سے
[1] صحیح مسلم، النکاح ،حدیث: 1403 [2] البقرہ 2: 286