کتاب: فتاویٰ صراط مستقیم - صفحہ 380
چاہیے۔ اکثر علماء نےولیمے کوسنت اورمستحب قرار دیا ہے، وہ اس لیے کہ اگر اس حدیث کےظاہری الفاظ کولیا جائے تو ایک بکری کی حدتک ولیمہ کرنالازمی قرار پائے گالیکن خودرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےاپنی بعض شادیوں میں صرف کھجور اورستو کی حدتک بھی دعوت کی ہے،[1]اس لیے علماء کےاس قول کوترجیح حاصل ہےکہ ولیمہ سنت ہے۔
ولیمے کے اہتمام میں اس بات کا بھی لحاظ رکھاگیا ہےکہ نکاح کااعلان عام ہوجائے۔خواتین کونکاح کےموقع پرجو دف بجانے کی اجازت دی گئی ہےاس میں بھی یہی حکمت ملحوظ ہے۔ جہاں تک ولیمہ کےوقت کا تعلق ہےتوعلماء کی مختلف آراء ملتی ہیں،یعنی نکاح کےوقت ولیمہ کرنا یاخاتون کی رخصتی سےقبل یاخاتون کی رخصتی کے بعد جبکہ میاں بیوں کاتعلق قائم ہوچکا ہو، یعنی تینوں طرح جائز ہےلیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کےاپنے نکاح اورصحابہ کےواقعات سےتیسری حالت کی تائید ہوتی ہے۔ عبدالرحمٰن بن عوف کےمتذکرہ واقعہ میں تواس بات کی صراحت ہےکہ خاتون کی رخصتی ہوچکی تھی۔
حضرت زینب بنت جحش کاولیمہ بھی نکاح سےاگلے دن ہوا تھا،جوکہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کےان الفاظ سےمعلوم ہوتاہے:
"أَصْبَحَ النَبِىُّ صلی اللّٰه علیہ وسلم بِهَا عَروسًا،فَدَعَا القَوْمَ فَأَصَابُوا مِنَ الطَّعَام"
’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےان کےساتھ بحیثیت دلہن صبح کی، پھر لوگوں کی دعوت کی اور انہوں نےکھانا کھایا۔‘‘[2]
اس سےمعلوم ہوا کہ بہتر یہی ہےکہ خاتون کوگھر لانے کےبعد دعوت ولیمہ
[1] صحیح مسلم، النکاح، حدیث: 1365
[2] صحیح البخاری،النکاح،حدیث:5166 ،صحیح مسلم،النکاح،حدیث : 1428