کتاب: فتاویٰ صراط مستقیم - صفحہ 377
ایک اوراصطلاحی صداق کاذکر کیا ہے جوکہ اس تحفہ کوکہا جاتا ہے جواس طرح کےتعلقات میں دیا جاتاہے۔عورت کو صدیقہ اوراس کےمرد کوصدیق کہاجاتا ہے اور اس میں یہ بھی کہا گیاہےکہ صدیقہ اپنی مرضی کےمطابق جب چاہے صدیق کوفارغ کرسکتی ہے اور ایک سےزائد صدیق بھی بیک وقت رکھ سکتی ہے۔ کیا متعہ سےمتعلق تمام ضابطے ابھی تک لاگو ہیں؟
متعہ کواسلام کےعروج کےزمانے سےجوڑا جاتاہے۔کیا شیعہ کےنزدیک عورت قابل عزت نہیں ہے؟ اگریہ خفیہ طریقے سے عمل پذیر ہوتاہے تو اس کےاثرات کیا ہیں اور کیا تعلق شمار کیا جائے گا؟ کیاایسے تعلقات سےجو اولاد ہوگی اس کی نسبت عورت اوراس کےخاندان کی طرف ہوگی؟ اورکیا صحیح نکاح میں عورت طلاق کےلیے کسی امام سےرجوع کرسکتی ہے؟
جواب: آپ کےپوچھے گئے سوالات کےجوابات نیچے دیے جارہے ہیں:
1۔ مہر کاتعلق عورت سےہے،اس کاخاندان سےکوئی سروکار نہیں ۔ سورۃ النساء میں کہا گیا ہے:’’ اپنی عورتوں کوان کےمہر(صدقات) خوش دلی سے دے دو۔‘‘[1]
زمانہ جاہلیت میں آدمی مہرصرف عورت کےولی کودیتا تھا جبکہ اسلام میں یہ قطعی طورپر عورت کاحق ہے۔اس لیے مہر صرف عورت ہی کودینا چاہیے۔
2۔ یہ مہریا ڈاور Dowerکہلاتا ہے،جیسا کہ محمد بن الحسن الطوسی نےاپنی کتاب التہذیب (2؍188) میں ذکر کیا ہے۔یہ شیعہ مذہب کی معتبر کتاب ہے۔
3۔ مجھے افسوس کےساتھ کہنا پڑے گا کہ لفظ صداق کامجھے کہیں اسلامی ذرائع میں وہ مفہوم نہیں ملا جوآپ نےرابرٹسن کےحوالے سےدیا ہے۔انہوں نے شاید یہ لفظ
[1] النساء4: 4