کتاب: فتاویٰ صراط مستقیم - صفحہ 375
بارےمیں کیانقطہ نظر ہے۔آیا کیا اس کا ابھی بھی رواج ہےیا اس کی ممانعت کردی گئی ہے؟ جواب: متعہ یا جز وقتی نکاح کورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے7ہجری میں منسوخ کردیا تھا، جیسا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے۔[1]متعہ کی 8 ہجری میں غزوہ حنین کےموقع پرقلیل مدت کےلیے اجازت دی گئی اورپھر ہمیشہ کےلیے منسوخ کردیا گیا۔ متعہ میں ایک شخص ایک معین مدت کےلیے کچھ ادا شدہ مہر کےعوض عورت سےشادی کرتاہے، مدت کےاختتام پرشادی ختم ہوجاتی ہے۔[2] متعہ اورمسنون نکاح میں کچھ واضح فرق جودرج ذیل ہیں: مسنون نکاح میں دوگواہ ضروری ہیں جبکہ متعہ میں گواہوں کی ضرورت نہیں ہے۔ ثابت شدہ نکاح میں شوہر کا بیوی کونان ونفقہ اورگھر مہیا کرنا ضروری ہےجبکہ متعہ میں ان چیزوں کی ضرورت نہیں ہے۔ ثابت شدہ نکاح میں کسی شخص کو بیک وقت چار بیویوں سےزائد رکھنے کی اجازت نہیں ہے جبکہ متعہ میں بغیر کسی شرط کےلا محدود تعداد میں عورتیں رکھنے پرکوئی پابندی نہیں ہے۔ مسنون نکاح میں بیوی شوہر کےانتقال کےبعد جائیداد میں وارث ہوتی ہےجبکہ متعہ میں کوئی وراثت نہیں۔ ثابت شدہ نکاح میں ولی کی رضا مندی بہت ضروری ہےجبکہ متعہ میں کسی ولی کی رضا مندی کی ضرورت نہیں ہے۔
[1] صحیح البخاری ، المغازی، حدیث: 4216، و صحیح مسلم ،النکاح ، حدیث: 1407 [2] صحیح مسلم، النکاح ،حدیث: 1405، 1406