کتاب: فتاویٰ صراط مستقیم - صفحہ 373
کی وجہ سے وہ اس دنیا میں آئی ہے، ان کےجذبات کا بھی خیال کرےاور اگران کی پسند کےرشتے میں کوئی قباحت نہیں ہےتواس رشتے کوقبول کرے، بہرصورت چونکہ اسی نے اپنےشوہر کےساتھ ساری زندگی گزارنی ہے، اس لیے وہ اپنی پسند پراصرار بھی کرسکتی ہے جیسا کہ خنساء بنت خذام کےواقعہ سےمعلوم ہوتاہے۔ مندرجہ بالا امور کوہرشادی میں ملحوظ رکھا جائے توامید کی جاسکتی ہےکہ شادی کامیاب رہےگی اورفریقین میں سے کسی کی دل آزاری نہیں ہوگی۔واللہ اعلم۔ ولی کےبغیر نکاح ہوجانے کےقائل علماء سےنکاح پڑھوانا سوال: ایک عامل بالسنہ شخص کےلیے آیا یہ جائز ہےکہ وہ صرف مطلب برآری کےلیے نکاح ایسے شخص سے پڑھوائے جونکاح میں ولی کی شرط کاقائل نہ ہوتاکہ اس کانکاح منعقد ہوجائے؟ جواب: گواحناف ولی کی اجازت کےبغیر نکاح کوصحیح مانتےہیں لیکن مندرجہ بالا حدیث[1] کی بناپر ہم صحیح مسلک یہی سمجھتےہیں کہ ولی کی اجازت کےبغیر نکاح منعقد نہیں ہوتا،یعنی ایک عورت کانکاح اس کےولی(باپ، دادا،چچا،بھائی، بیٹاوغیرہ) کی اجازت کےبغیر صحیح نہیں ہوگا۔ ایک شخص عامل بالحدیث ہونے کادعویٰ کرے اور پھرجب حدیث پرعمل کرنے کاموقع آئے توحیلے بہانے تراشے،ایسا کرنا اس کےلیے جائز نہیں ہے، ایسے آدمی کانکاح منعقد نہیں ہوا۔ [1] ((لا نکاح الا بولی وشاھدی عدل) صحیح ابن حبان:9؍386 )