کتاب: فتاویٰ صراط مستقیم - صفحہ 371
ہےاور ثیبہ(مطلقہ یابیوہ) سےبصراحت اجازت لی جائے۔‘‘ [1] ایک دوسری حدیث سےمعلوم ہوتاہےکہ ایک خاتون،جن کانام خنساء بنت خذام ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےپاس آئیں اورکہا: میرا باپ میری شادی میرے چچا زاد بھائی سےکرنا چاہتاہےلیکن میں اسے پسند نہیں کرتی۔ کیامجھے ایسی شادی کوفسخ کرنے کاحق حاصل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:’’ہاں! تم اس نکاح کوفسخ کرسکتی ہو۔‘‘ جس پرخنساء نےکہا: میں اس سوال کےجواب سے یہ واضح کرناچاہتی تھی کہ ہمارے اولیاء ہماری مرضی کےبغیر ہم پرشادی مسلط نہیں کرسکتے، گو میں اپنے باپ کی بات اب مان لیتی ہوں اور اس شادی کی اجازت دیتی ہوں۔[2] 3۔ اگر لڑکی کوباپ کی ناراضی کااندیشہ ہوتووہ نکاح کرنے میں جلد بازی نہ کرے بلکہ اپنے باپ کوراضی کرنےکی کوشش کرے، چاہے اس میں کافی وقت لگے لیکن اگر باپ [1] ان الفاظ کےساتھ مجھے یہ حدیث نہیں مل سکی لیکن معمولی سی تقدیم وتاخیر کےساتھ یہ الفاظ اکثر کتب احادیث میں موجود ہیں۔ دیکھیے:صحیح البخاری،النکاح، حدیث: 5136،وصحیح مسلم،النکاح،حدیث:1419۔ 1427 ) [2] ڈاکٹر صاحب نے دو الگ الگ احادیث کویہاں جمع کردیا ہے۔پہلی حدیث ہے: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ ایک لڑکی نےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوکر عرض کی: اللہ کے رسول! میرے والد نےاپنے بھتیجے کی خساست دور کرنےکے لیے میری شادی اس کےساتھ کردی ہے۔ اس پررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےیہ معاملہ اسی پرچھوڑدیا(اختیار دےدیا کہ وہ نکاح برقرار رکھے یافسخ کردے) ۔ اس لڑکی نےکہا: میرے باپ نےجوکیاہے میں اسے برقرار رکھتی ہوں۔ لیکن میں ی چاہتی تھی کہ خواتین کومعلوم ہوجائےکہ ان کےباپوں کےپاس اس معاملے میں کوئی اختیار نہیں ہے۔(سنن النسائی، النکاح،حدیث: 3271،ومسند احمد: 6؍136) دوسری حدیث ہےکہ خنساء بنت خذام نامی ایک ثیبہ بیوہ یا طلاق یافتہ) خاتون کےباپ نےاس کی( دوسری )شادی کردی۔ اس خاتون نےاس شادی کوناپسند کیااور خدمت رسالت مآب میں آکر شکایت کی تو آپ نے اس نکاح کوفسخ کردیا۔ (صحیح البخاری،النکاح،حدیث:5138 )]