کتاب: فتاویٰ صراط مستقیم - صفحہ 365
جواب: ظاہر ہےکہ ایک مسلمان کےلیےحلال رزق کمانے کاحکم دیا گیاہے، رزق حلال سےگھر میں، بچوں میں، مال میں برکت آتی ہے، دعائیں قبول ہوتی ہیں اوراگر رزق حرام ہوتو یہ برکت اٹھ جاتی ہےاورانسان کی دعائیں اس کےمنہ پرماردی جاتی ہیں۔حضرت سعدبن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سےپوچھا تھا کہ میں کیا کروں کہ میری دعائیں قبول ہوتی چلی جائیں توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایاتھا: ﴿ اَطِب مطعمك تكن مستجاب الدعوة﴾ ’’ اپنا کھانا پاک کرلو،مستجاب الدعوات بن جاؤں گے۔‘‘[1] اورپھر یہ بھی فرمایا: ﴿ ثُمَّ ذَكَرَ الرَّجُلَ يُطِيلُ السَّفَرَ أَشْعَثَ أَغْبَرَ،يَمُدُّ يَدَيْهِ إِلَى السَّمَاءِ،يَا رَبِّ،يَا رَبِّ،وَمَطْعَمُهُ حَرَامٌ،وَمَشْرَبُهُ حَرَامٌ،وَمَلْبَسُهُ حَرَامٌ،وَغُذِيَ بِالْحَرَامِ،فَأَنَّى يُسْتَجَابُ لِذَلِكَ؟ ﴾ ’’ پھرآپ نے تذکرہ کیا کہ ایک ایسا شخص ہےجس کا سرپراگندہ ہو، پیرخاک آلود ہوں، طویل سفر سےآرہا ہو (یعنی حج کاسفر)، پھر وہ آسمان کی طرف ہاتھ پھیلا کرکہے: اے رب! (میری سن لے) اے رب(میری دعا قبول فرما) لیکن اس کا کھاناحرام کاہے،پینا حرام کا ہے، لباس حرام کاہےاورحرام ہی سے وہ پروان چڑھا ہےتوا سکی دعا کہاں قبول ہوگی!‘‘ [2] اب تویہ اصولی بات ہوئی، دوسری بات یہ دیکھی جائےکہ وہ ملازمت کا کتنا [1] المعجم الاوسط للطبرانی: 6؍ 310، و سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ: 4؍ 292، حدیث: 1812 [2] صحیح المسلم،الزکاۃ، حدیث:1015